وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اڈیالہ جیل روکے جانے کا واقعہ آٹھویں بار راستہ بند، سیاسی تناؤ بڑھ گیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اڈیالہ جیل روک دیا گیا

راولپنڈی میں پولیس نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو آٹھویں مرتبہ اڈیالہ جیل جانے سے روک دیا۔ وزیراعلیٰ نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا اور وفاقی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا۔

وزیراعظم کی ہدایت پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور عمران خان کی ملاقات کے انتظامات شروع

وزیراعظم کی ہدایت پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور عمران خان کی ملاقات کے انتظامات شروع

وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ملاقات کے انتظامات کے لیے صوبائی حکومت کو ہدایت جاری کر دی ہے۔ یہ ہدایت صوبے میں نئی کابینہ کی تشکیل، وفاقی تعلقات میں بہتری اور سیاسی استحکام کے تناظر میں دی گئی ہے۔ وزیر مملکت برائے ثقافت و سیاحت حذیفہ رحمٰن نے ایک ٹی وی پروگرام میں تصدیق کی کہ ملاقات کی تیاری مکمل کی جا رہی ہے اور آئندہ چند دنوں میں اس کے انعقاد کا امکان ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پیش رفت وفاق اور تحریک انصاف کے درمیان برف پگھلنے کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ملاقات کامیاب رہتی ہے تو صوبے میں انتظامی عمل میں تیزی، نئی کابینہ کی تشکیل اور ترقیاتی منصوبوں کی بحالی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

خیبر پختونخوا کے نئے نوجوان وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی ،عمران خان کا فیصلہ ایک نئی شروعات

نئے نوجوان وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی

پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں قیادت کی تبدیلی کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ عمران خان کی ہدایت پر علی امین گنڈا پور کو عہدے سے ہٹا کر نوجوان رہنما سہیل آفریدی کو نیا وزیرِ اعلیٰ نامزد کیا گیا ہے۔ سہیل آفریدی قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ اور متحرک رہنما ہیں، جنہوں نے اپنی کارکردگی اور عوامی رابطوں سے جلد مقبولیت حاصل کی۔ ان کا ایجنڈا تعلیم، روزگار اور امن کے فروغ پر مبنی ہے۔

سینئر صحافی اعجاز احمد سے عمران خان کی بدسلوکی کیخلاف قومی اسمبلی میں قرارداد منظور

صحافی اعجاز احمد سے عمران خان کی بدسلوکی : قومی اسمبلی اجلاس میں صحافیوں کا آؤٹ

اسلام آباد کی قومی اسمبلی میں اس وقت ہنگامہ کھڑا ہوگیا جب صحافی اعجاز احمد کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسی ایشن نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ رپورٹرز کا مؤقف ہے کہ اڈیالہ جیل میں سوال پوچھنے پر عمران خان نے نازیبا الفاظ استعمال کیے جس کے بعد سوشل میڈیا پر اعجاز احمد کے خلاف سخت مہم بھی شروع ہوگئی۔ ایوان میں اسپیکر ایاز صادق اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صحافیوں کے مؤقف کو اہم قرار دیا جبکہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے بھی اعجاز احمد کی حمایت کی۔ بعدازاں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں صحافیوں کے تحفظ اور نفرت انگیز مہم کی مذمت کی گئی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر پاکستان میں سیاست اور صحافت کے تناؤ کو نمایاں کر دیا ہے۔

یومِ آزادی پر ریلیاں اور عمران خان کی رہائی کے لیے آواز بلند کریں گے، بیرسٹر گوہر14 اگست

عمران خان کی رہائی

عمران خان کی رہائی: 14 اگست کو جشن کے ساتھ ساتھ ریلیوں کا اعلان یومِ آزادی اور عمران خان کی رہائی: پی ٹی آئی کا دوہرا مؤقف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 14 اگست کے موقع پر پارٹی کی سرگرمیوں کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے […]

علی امین گنڈاپور کا خصوصی انٹرویو: عمران خان ملک نہیں چھوڑیں گے، خیبر پختونخوا میں امن کی ضرورت پر زور

علی امین گنڈاپور عمران خان کے ساتھ سیاسی گفتگو کرتے ہوئے

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے واضح کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کبھی بھی پاکستان چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، ان کے خلاف شوشے اور مفروضے تحریک کو نقصان پہنچانے کی سازشیں ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]