فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ٹرمپ سے اہم رابطہ، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مذاکرات میں رکاوٹ قرار

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کر کے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو مذاکرات میں رکاوٹ قرار دیا، ٹرمپ نے رائے پر غور کی یقین دہانی کرائی۔
ٹرمپ کا اعلان: امریکی نمائندے اسلام آباد روانہ، ایران کو سخت دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں جبکہ ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔
لبنان میں جنگ بندی کے بعد ایران کا تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان

ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو تجارتی بحری جہازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق جنگ بندی کے دوران تمام تجارتی جہازوں کو مخصوص راستے کے ذریعے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
اسلام آباد میں امریکا اور ایران مذاکرات کا نیا دور متوقع، سفارتی سرگرمیاں تیز

اسلام آباد میں امریکا اور ایران مذاکرات کا نیا دور متوقع، پاکستان کے کردار کو سراہا گیا
ایرانی بندرگاہوں کو خطرہ ہوا تو خلیج کی کوئی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی، ایران کا انتباہ

ایران نے خبردار کیا خلیج فارس اور خلیج عمان کی بندرگاہیں خطرے میں آ سکتی ہیں, ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا رابطہ
وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب اور ترکیہ کا دورہ جلد کریں گے، مشرق وسطیٰ صورتحال پر اہم مشاورت

وزیراعظم شہباز شریف مشرق وسطیٰ صورتحال پر سعودی عرب اور ترکیہ کا دورہ کریں گے
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد مذاکرات کیلئے پاکستان روانہ

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد مذاکرات کیلئے پاکستان روانہ، امریکا اور ایران کے وفود آج پہنچیں گے
ایران کا بڑا اعلان: امریکی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں

ایران نے کہا ہے کہ امریکی بحری جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ دشمنی پر مبنی سرگرمی میں شامل نہ ہوں
اسحاق ڈار کی فرانسیسی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان اور فرانس کا لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش

پاکستان اور فرانس نے لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امن کے مکمل نفاذ پر زور دیا
امریکہ نے 3500 میرین فوجی مشرق وسطیٰ بھیج دیئے

Middle East US Troops Deployment کے تحت امریکہ نے 3500 میرینز مشرق وسطیٰ میں تعینات کر دیئے جبکہ مزید 10 ہزار فوجیوں کی تعیناتی پر بھی غور جاری ہے۔