آئینی عدالت کا اہم فیصلہ : پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے خلاف اپیل پر حکومت کو نوٹس جاری

وفاقی آئینی عدالت نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے خلاف دائر اپیل پر حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کے دوران بینچ کی تشکیل اور اپیل کی نوعیت پر اہم سوالات اٹھائے۔ سماعت کے دوران وکیل سمیر کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کا 7 رکنی بینچ پہلے ہی اس معاملے پر ابتدائی فیصلہ دے چکا ہے، اس لیے موجودہ اپیل صرف لارجر بینچ ہی سن سکتا ہے۔
27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس، اجتماعی استعفوں کی تجویز مسترد

سپریم کورٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بلائے گئے اہم فل کورٹ اجلاس میں ججوں نے ترمیم کے عدلیہ کے اختیارات پر اثرات، ادارہ جاتی ردِعمل اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی۔ اجلاس کے دوران ایک جج کی جانب سے ترمیم کے خلاف اجتماعی استعفوں کی تجویز بھی پیش کی گئی، مگر اس پر کسی نے اتفاق نہیں کیا۔ اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کیا سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو قانون سازی یا آئینی ترمیم سے روک سکتی ہے؟ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے واضح کیا کہ عدالتی نظرثانی کا اختیار قانون بننے کے بعد استعمال ہوتا ہے، پہلے نہیں۔ اجلاس میں سینئر ججز نے حالات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ کو ایک مضبوط ادارہ جاتی ردعمل دینا چاہیے، تاہم کوئی مشترکہ فیصلہ سامنے نہ آسکا۔
حکومتِ پاکستان کا وفاقی آئینی عدالت کی تشکیل کا عمل شروع، 7ججز کے نام شارٹ لسٹ

27ویں آئینی ترمیم کے پارلیمان سے منظوری کے بعد حکومت نے اعلیٰ عدلیہ کی ازسرِنو تشکیل کا عمل شروع کر دیا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت (FFC) کے لیے 7 جج صاحبان کے نام شارٹ لسٹ کر لیے گئے ہیں۔ جسٹس امین الدین خان کو چیف جسٹس مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ نئی عدالت آئین کی تشریح اور وفاق و صوبوں کے درمیان تنازعات کے تصفیے کے لیے قائم کی جا رہی ہے۔