ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل انعام میں نظرانداز کرنے پر وائٹ ہاؤس برہم

ناروے کی نوبیل کمیٹی کی جانب سے وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو کو امن کے نوبیل انعام سے نوازنے پر وائٹ ہاؤس نے شدید ردعمل دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نظرانداز کرنا سیاسی جانبداری ہے۔ ٹرمپ نے خود کو عالمی امن کا علمبردار قرار دیتے ہوئے کئی بار دعویٰ کیا کہ ان کے اقدامات نے دنیا کو جنگوں سے بچایا۔
حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ امن معاہدہ طے پا گیا، حماس رہنما اسامہ حمدان نے تفصیلات سے آگاہ کر دیا

حماس رہنما اسامہ حمدان نے اعلان کیا کہ اسرائیل کے ساتھ غزہ امن معاہدہ صرف جنگ بندی نہیں بلکہ مکمل جنگ کے خاتمے کا معاہدہ ہے۔ معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج غزہ، شمالی علاقوں، رفح اور خان یونس سے مکمل انخلا کرے گی، جبکہ پانچ سرحدی گزرگاہوں سے روزانہ 600 امدادی ٹرک داخل ہوں گے۔
قطر پر حملہ امریکا پر حملہ ایگزیکٹیو آرڈر جاری، قطر حملہ پر اسرائیل کی معذرت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے حالیہ فضائی حملے کے بعد قطر کی سلامتی کی باضابطہ ضمانت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دوبارہ حملہ کیا گیا تو امریکا فوجی کارروائی کرے گا۔ اس پیشرفت نے مشرقِ وسطیٰ میں نئی سفارتی لہر دوڑا دی ہے اور سہ فریقی نظام کی تجویز نے علاقائی تعاون کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔
پاکستان اب تاریخ کا تماشائی نہیں۔۔مرکزی کردار

یوں لگتا ہے کہ وقت نے ایک بار پھر تاریخ کے پرانے اوراق کو پلٹ کر ایک نیا باب لکھ دیا ہے۔ وہی پاکستان، جو کبھی سرد جنگ میں امریکا کا منظورِ نظر تھا، آج ایک نئے انداز میں عالمی بساط پر اُبھرتا دکھائی دیتا ہے۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان صرف عسکری ہی نہیں بلکہ سیاسی و سفارتی محاذ پر بھی مرکزی کردار بن رہا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ، ایران، چین اور روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے مقابل ایک نیا اتحاد دنیا کے توازن کو بدلنے کے قریب ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب پاکستان تاریخ کا تماشائی نہیں بلکہ اس کا اصل کردار بن چکا ہے۔
ایران اسرائیل جنگ کسی بھی وقت چھڑ سکتی ہے: ایرانی نائب صدر

ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں اسرائیل کے خلاف ہر وقت جنگ کے لیے تیار رہنا ضروری ہے کیونکہ کوئی باضابطہ جنگ بندی معاہدہ موجود نہیں۔ جون کی جنگ میں ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، لیکن جوابی میزائل حملوں سے اسرائیل کا دفاع ناکام ہوا۔ دوسری جانب تہران نے آئی اے ای اے کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔