خواتین پر پابندی جاری، طالبان نے مرد ڈینٹسٹ سے علاج بھی ممنوع کر دیا
خواتین پر پابندی کا نیا حکم نامہ
افغانستان میں طالبان کی جانب سے خواتین پر پابندی کے نئے احکامات جاری ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ حال ہی میں صوبہ قندھار میں طالبان نے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت خواتین کو مرد دندان سازوں (ڈینٹسٹ) سے علاج کرانے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ان کی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کو بھی شدید متاثر کر رہا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس پابندی کے پس منظر، اس کے اثرات، اور عالمی برادری کے ردعمل کا جائزہ لیں گے۔
طالبان کا نیا حکم نامہ: تفصیلات
’’طالبان نے قندھار کے تمام ڈینٹل کلینکس کو ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ خواتین مریضوں کا علاج مرد ڈینٹسٹ نہیں کریں گے۔ طالبان اہلکاروں نے ڈینٹل کلینکس کا دورہ کرکے خواتین مریضوں کو باہر نکال دیا اور کلینکس کو اس حکم کی تعمیل کے لیے سختی سے کہا گیا۔ یہ پابندی اس وقت سامنے آئی جب چند ہفتوں قبل ہی طالبان نے ملک بھر میں رومانوی شاعری اور بلا اجازت مشاعروں پر پابندی عائد کی تھی، جو ان کے سخت گیر نظریات کی عکاسی کرتا ہے۔
خواتین پر پابندی: ایک تاریخی تناظر
اگست 2021 میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد طالبان نے افغانستان کا اقتدار سنبھالا۔ اس کے بعد سے خواتین پر پابندی کے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ لڑکیوں کی سیکنڈری تعلیم پر پابندی، خواتین کی ملازمتوں پر قدغنیں، اور اقوام متحدہ سمیت غیر ملکی امدادی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہ دینا اس کی چند مثالیں ہیں۔
اس کے علاوہ خواتین کے لیے پارکس، جمز، اور کھیلوں کی سہولیات بھی بند کردی گئی ہیں، جبکہ خواتین کھلاڑیوں کو بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔ مرد ڈینٹسٹ سے علاج کی پابندی خواتین کے حقوق پر ایک اور حملہ ہے، جو ان کی زندگی کے ہر شعبے کو محدود کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
صحت کی دیکھ بھال پر اثرات
خواتین پر مرد ڈینٹسٹ سے علاج کی پابندی صحت کے شعبے میں سنگین مسائل پیدا کر رہی ہے۔ Afghanistan میں خواتین ڈینٹسٹ کی تعداد پہلے ہی محدود ہے، اور اس پابندی سے خواتین مریضوں کے لیے دانتوں کی مناسب دیکھ بھال حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ دانتوں کی بیماریاں، جیسے کہ درد، انفیکشن، یا دیگر پیچیدگیاں، سنگین صحت کے مسائل کا باعث بن سکتی ہیں اگر ان کا بروقت علاج نہ کیا جائے۔ یہ پابندی نہ صرف خواتین کی صحت کو خطرے میں ڈالتی ہے بلکہ ان کے معیار زندگی کو بھی متاثر کرتی ہے۔
معاشرتی اور ثقافتی اثرات
خواتین پر پابندی کے اس فیصلے سے معاشرتی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ طالبان کے یہ اقدامات خواتین کو گھروں تک محدود کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں، جس سے ان کی سماجی اور معاشی شمولیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ مرد ڈینٹسٹ سے علاج کی پابندی خواتین کے لیے ایک بنیادی ضرورت تک رسائی کو محدود کرتی ہے، جو ان کے خود مختار فیصلے کرنے کے حق کو بھی سلب کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ فیصلہ خواتین کے لیے ایک غیر محفوظ ماحول پیدا کرتا ہے، کیونکہ وہ اپنی صحت سے متعلق فیصلوں میں آزاد نہیں ہیں۔
عالمی برادری کا ردعمل
عالمی برادری نے طالبان کے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں، جیسے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ، نے اسے خواتین کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خواتین پر پابندی کے فیصلوں کو واپس لیں اور ان کے حقوق کی پاسداری کریں۔ تاہم، طالبان نے عالمی دباؤ کے باوجود اپنی پالیسیوں میں نرمی نہیں دکھائی، جس سے عالمی برادری کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
خواتین کے حقوق کی جدوجہد
افغانستان میں خواتین کے حقوق کی جدوجہد ایک طویل اور مشکل سفر ہے۔ طالبان کے اقتدار سے پہلے، خواتین نے تعلیم، صحت، اور ملازمتوں کے شعبوں میں نمایاں ترقی کی تھی۔ تاہم، موجودہ حالات میں ان کی یہ ترقی داؤ پر لگ چکی ہے۔ خواتین پر پابندی کے یہ فیصلے نہ صرف ان کی آزادی کو سلب کرتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کو بھی روکتے ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اس پابندی کی مذمت کرے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
مستقبل کے امکانات
خواتین پر پابندی کے اس نئے فیصلے سے مستقبل میں صحت کے شعبے میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر خواتین ڈینٹسٹ کی تعداد میں اضافہ نہ کیا گیا تو یہ پابندی خواتین کی صحت کو طویل مدتی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، طالبان کی جانب سے خواتین کے حقوق پر مسلسل پابندیوں سے معاشرتی عدم استحکام اور اقتصادی زوال کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ طالبان پر دباؤ ڈالے کہ وہ خواتین کے بنیادی حقوق بحال کریں، خاص طور پر صحت اور تعلیم کے شعبوں میں۔
طالبان حکومت نے خواتین کی مذہبی تعلیم پر بھی پابندی لگا دی
طالبان کی جانب سے خواتین پر مرد ڈینٹسٹ سے علاج کی پابندی ایک اور افسوسناک اقدام ہے جو خواتین کے بنیادی حقوق کو سلب کرتا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کو محدود کرتا ہے بلکہ خواتین کی سماجی اور معاشی ترقی کو بھی روکتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال پر فوری توجہ دے اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ خواتین پر پابندی کے اس سلسلے کو روکنا نہ صرف انسانی حقوق کے لیے ضروری ہے بلکہ ایک مستحکم اور ترقی یافتہ معاشرے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔