پشاور پولیس کی بڑی کارروائی: خطرناک ٹارگٹ کلر گینگ پشاور کا سرغنہ سمیت خاتمہ

پشاور پولیس مقابلہ: ٹارگٹ کلر گینگ کے کارندے ہلاک
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سی سی پی او میاں سعید کی قیادت میں مقابلہ: ٹارگٹ کلر گینگ پشاور کے 5 دہشت گرد انجام کو پہنچ گئے

پشاور پولیس نے ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران صوبے کے خطرناک ترین ٹارگٹ کلر گینگ پشاور کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ سی سی پی او پشاور میاں سعید کے مطابق، پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ یہ گینگ دوبارہ پولیس اہلکاروں اور سیاسی شخصیات پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

مقابلے کی تفصیلات اور پولیس کی حکمت عملی

پولیس اور مسلح ملزمان کے درمیان مقابلہ پشاور کے مضافاتی علاقے میں ہوا۔ ملزمان نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کر دی، تاہم جوابی کارروائی میں ٹارگٹ کلر گینگ پشاور کا سرغنہ نجمل الحسن اپنے چار ساتھیوں سمیت مارا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ ملزمان جدید اسلحہ سے لیس تھے اور کسی بڑی تخریب کاری کی نیت سے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

گینگ کا مجرمانہ پس منظر اور سنگین وارداتیں

ہلاک ہونے والے ملزمان کا ریکارڈ انتہائی خوفناک ہے۔ سی سی پی او میاں سعید نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ٹارگٹ کلر گینگ پشاور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع بشمول نوشہرہ، چارسدہ اور درہ آدم خیل میں مجموعی طور پر 30 سے زائد سنگین وارداتوں میں ملوث تھا۔

گینگ کے جرائم کی فہرست درج ذیل ہے:

  • نوشہرہ: 17 افراد کا بے رحمانہ قتل۔
  • پشاور: 12 افراد کی ٹارگٹ کلنگ۔
  • دیگر اضلاع: چارسدہ اور درہ آدم خیل میں بھی قتل کی وارداتیں۔

پولیس اہلکاروں اور سیاسی رہنماؤں پر حملے

یہ گروہ خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بناتا تھا۔ سرغنہ نجمل الحسن نے ایک ویڈیو بیان میں کانسٹیبل کی شہادت کا اعتراف بھی کیا تھا۔ اس کے علاوہ، اس ٹارگٹ کلر گینگ پشاور نے اے این پی کے رہنما مومن خان اور ان کے بھائی کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ انسانیت سوز کارروائیوں میں ملوث ان ملزمان نے ایک خواجہ سرا کو بھی فائرنگ کر کے شدید زخمی کیا تھا۔

پشاورمنشیات برآمدگی: محکمہ ایکسائز کا گودام پر چھاپہ، 100 کلو پاؤڈر ضبط

اس کامیاب آپریشن کے بعد پشاور اور گردونواح میں خوف کی فضا کم ہوئی ہے۔ سی سی پی او پشاور کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلر گینگ پشاور کا خاتمہ پولیس کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور شہر میں امن کی بحالی کے لیے ایسے آپریشنز جاری رہیں گے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]