جسٹس طارق جہانگیری ڈی نوٹیفائی، صدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری

جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈی نوٹیفائی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ڈگری کیس: صدر مملکت نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو جج کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کرنے کی منظوری دے دی

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو ڈگری کیس میں نااہل قرار دیے جانے کے بعد ان کی بطور جج تقرری ختم کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ وزیرِاعظم پاکستان کے مشورے پر کیا گیا، جس کے بعد جسٹس طارق محمود جہانگیری کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا۔

ایوانِ صدر سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق صدرِ پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں یہ منظوری دی، جس میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری تقرری کے وقت ایل ایل بی کی درست اور تسلیم شدہ ڈگری کے اہل نہیں تھے، اس لیے وہ جج کے عہدے پر فائز رہنے کے مجاز نہیں تھے۔

یہ فیصلہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ کسی اعلیٰ عدالتی عہدیدار کو تعلیمی اسناد کے معاملے پر نااہل قرار دیا گیا ہو، تاہم اس نوعیت کے مقدمات ہمیشہ قانونی، آئینی اور اخلاقی سطح پر وسیع بحث کو جنم دیتے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے گزشتہ روز ڈگری کیس کا تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو جج کے عہدے کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتی منصب پر فائز ہونے کے لیے امیدوار کا نہ صرف آئینی تقاضوں پر پورا اترنا ضروری ہے بلکہ اس کی تعلیمی اسناد بھی مکمل طور پر مستند اور قانون کے مطابق ہونی چاہییں۔

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی ڈگری تقرری کے وقت قانونی تقاضوں پر پوری نہیں اترتی تھی، جس کی بنیاد پر ان کی بطور جج تقرری آئین اور قانون کے منافی قرار پاتی ہے۔ عدالت نے واضح الفاظ میں ہدایت کی تھی کہ وہ فوری طور پر اپنا عہدہ خالی کریں۔

اس سے قبل ڈگری کیس کی سماعت کے دوران جسٹس طارق محمود جہانگیری نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس سرفراز ڈوگر نے انہیں یہ تجویز بھی دی تھی کہ وہ رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے دیں تاکہ عدالتی وقار اور ادارے کی ساکھ متاثر نہ ہو۔ تاہم، اس تجویز کے باوجود معاملہ عدالتی فیصلے تک پہنچا۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ عدلیہ میں شفافیت اور احتساب کے عمل کو مضبوط کرنے کی ایک مثال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جج کا عہدہ نہایت حساس اور ذمہ داریوں سے بھرپور ہوتا ہے، جس کے لیے امیدوار کی اہلیت، کردار اور تعلیمی قابلیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

ادھر سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی اس فیصلے پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ حلقے اسے قانون کی بالادستی کی فتح قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض افراد کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے معاملات میں تقرری سے قبل ہی مکمل چھان بین ہونی چاہیے تاکہ بعد میں ایسے بحران پیدا نہ ہوں۔

صدرِ مملکت کی جانب سے ڈی نوٹیفکیشن کی منظوری کے بعد اب جسٹس طارق محمود جہانگیری باضابطہ طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج نہیں رہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی عدالتی نظام میں ایک خالی نشست پیدا ہو گئی ہے، جسے آئینی طریقہ کار کے مطابق پُر کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان کے آئین کے تحت ہائیکورٹ کے جج کی تقرری کے لیے نہ صرف قانونی تعلیم اور تجربہ ضروری ہے بلکہ امیدوار کا پاکستان بار کونسل کے قواعد و ضوابط کے مطابق اہل ہونا بھی لازمی شرط ہے۔ اس کیس نے ایک مرتبہ پھر اس امر کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے کہ عدالتی تقرریوں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں عدالتی تقرریوں کے عمل کو مزید سخت اور محتاط بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ فیصلہ دیگر اداروں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے کہ کسی بھی سرکاری یا آئینی عہدے پر فائز ہونے کے لیے قانونی اور اخلاقی معیار پر پورا اترنا ناگزیر ہے۔

آخرکار، صدرِ مملکت کی منظوری سے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈی نوٹیفکیشن کا عمل مکمل ہو گیا ہے، اور یہ معاملہ اب پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک اہم باب بن چکا ہے، جو شفافیت، قانون کی بالادستی اور احتساب کے اصولوں کی یاد دہانی کراتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]