تیانجن سربراہ اجلاس شنگھائی تعاون تنظیم کو نئی توانائی دے گا، صدر پوتن
روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے تیانجن سربراہ اجلاس پر توقعات: ایک نیا عالمی منظرنامہ
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے حالیہ تحریری انٹرویو میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے تیانجن میں ہونے والے سربراہ اجلاس کے حوالے سے اپنی توقعات کا اظہار کیا ہے، جسے وہ تنظیم کی تاریخ میں ایک اہم موڑ اور عالمی سیاست میں نئے امکانات کا آغاز سمجھتے ہیں۔ پوتن کے مطابق، یہ اجلاس نہ صرف ایس سی او کی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ عالمی سطح پر ایک زیادہ منصفانہ اور کثیر قطبی نظام کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
پوتن کی توقعات: ایس سی او کی نئی توانائی
روس کے صدر نے اس اجلاس کو ایس سی او کے لیے ایک "نئی اور طاقتور توانائی” کا باعث قرار دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ تیانجن سربراہ اجلاس تنظیم میں نئی روح پھونکے گا، جس کے نتیجے میں ایس سی او عالمی سطح پر ہونے والی بدلتی سیاسی و اقتصادی صورتحال کے جواب میں مزید فعال اور موثر بنے گی۔ پوتن نے کہا کہ یہ اجلاس موجودہ دور کے چیلنجز اور خطرات کا موثر جواب دینے کے لیے ایس سی او کی صلاحیت کو مزید تقویت دے گا اور یوریشیا میں اتحاد کو مزید مستحکم کرے گا۔
پوتن کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر نئے نظام کا قیام ضروری ہے، اور ایس سی او کا اجلاس اس کی بنیاد فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق، تنظیم کی فعالیت اور اس کی اصولوں پر عمل درآمد ایک زیادہ منصفانہ اور کثیر قطبی عالمی نظام کے قیام میں مددگار ثابت ہو گا، جو کہ بین الاقوامی قانون پر مبنی ہو گا اور اقوام متحدہ کو رابطے کا مرکزی کردار فراہم کرے گا۔
ایس سی او کے اصول اور اس کی کشش
روس کے صدر نے ایس سی او کی کشش کو اس کے سادہ مگر مضبوط اصولوں میں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے بانی فلسفے میں جس طرح مساوی تعاون، تیسرے فریق کو ہدف نہ بنانے، اور ہر قوم کی خصوصیات اور انفرادیت کا احترام کیا گیا ہے، یہ تنظیم کو ایک منفرد اور مضبوط مقام فراہم کرتا ہے۔ پوتن کے مطابق، یہ اصول ایس سی او کو عالمی سیاست میں ایک قابل احترام اور مؤثر پلیٹ فارم بناتے ہیں۔
پوتن نے مزید وضاحت کی کہ ایس سی او عالمی سطح پر متعدد ممالک کے مفادات کے پیش نظر ایک توازن قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اسی وجہ سے یہ تنظیم ایک کثیر قطبی دنیا کے قیام میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی امن و سلامتی کے تناظر میں ایس سی او کی جانب سے کی جانے والی کوششیں عالمی تعاون کو فروغ دیتی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط اور منصفانہ نظام کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
ایس سی او کا کردار: عالمی سیاست میں تبدیلی
پوتن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایس سی او کی کامیاب کارکردگی اور اس کے فیصلے عالمی سطح پر ایک نئے عالمی سیاسی منظرنامے کی تشکیل میں مدد فراہم کریں گے۔ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی بحرانوں میں ایس سی او کے رکن ممالک کا اتحاد ایک ایسی طاقت بن سکتا ہے جو عالمی مسائل کا موثر اور متوازن حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو۔ پوتن کے مطابق، یہ اجلاس اس بات کا اشارہ ہے کہ ایس سی او مستقبل میں عالمی سیاست میں اپنی حیثیت کو مزید مستحکم کرے گی اور اس کے اثرات کو عالمی سطح پر محسوس کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ چین کی صدارت میں ایس سی او نے اپنے مقاصد کی جانب اہم قدم اٹھائے ہیں، اور اس سربراہ اجلاس کے دوران اس کی پالیسیوں کو مزید تقویت ملے گی۔ پوتن نے واضح کیا کہ روس چین کے ساتھ مکمل طور پر ان ترجیحات کی حمایت کرتا ہے جو چین نے اپنی صدارت کے دوران متعارف کرائی ہیں، جن میں تنظیم کو مستحکم کرنا، مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنا، اور عالمی سطح پر ایس سی او کے کردار کو بڑھانا شامل ہے۔
یوریشیا میں مساوی سلامتی کے نظام کی تشکیل
پوتن نے ایس سی او کی ایک اور اہم کامیابی کے طور پر یوریشیا میں مساوی اور ناقابل تقسیم سلامتی کے نظام کی تشکیل پر زور دیا۔ ان کے مطابق، ایس سی او رکن ممالک کے درمیان قریبی ہم آہنگی اور تعاون کی بنیاد پر یہ نظام عالمی امن کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ پوتن کے لیے یہ ایک نہایت اہم مرحلہ ہے کیونکہ اس کا مقصد عالمی سطح پر ایسے بحرانوں کے حل کے لیے ایک مضبوط اور ہم آہنگ فریم ورک فراہم کرنا ہے، جو عالمی سیاست میں موجود تنازعات اور غیر یقینی صورتحال کے دوران مثبت نتائج دے سکے۔
چین کی صدارت میں ایس سی او کی ترقی
چین نے 2024-2025 کے لیے ایس سی او کی صدارت سنبھالی ہے، اور اس دوران چین نے اس تنظیم کو نئے سرے سے فعال اور مربوط بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ 2025 میں ہونے والا تیانجن سربراہ اجلاس، جس میں عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے، چین کی قیادت کے تحت ایس سی او کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ چین کی طرف سے ایس سی او کے کردار کو عالمی سطح پر بڑھانے کے لیے کیے گئے اقدامات اس بات کا مظہر ہیں کہ چین اس تنظیم کو ایک اہم عالمی طاقت کے طور پر دیکھتا ہے اور اسے نئے عالمی سیاسی و اقتصادی چیلنجز کے حل میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہتا ہے۔
روس اور چین کا قریبی تعاون
پوتن نے اس بات پر زور دیا کہ روس اور چین کے درمیان تعاون نے نہ صرف ایس سی او کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر دونوں ممالک کے تعلقات کو بھی مزید مستحکم کیا ہے۔ ان کے مطابق، چین کی قیادت میں ایس سی او کی ترقی اور اس کے عالمی کردار کو بڑھانے کے لیے روس کی حمایت ایک اہم عنصر ہے۔ دونوں ممالک کی مشترکہ کوششیں عالمی نظام میں نئی تبدیلیاں لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ ایس سی او نے ہمیشہ اپنی پالیسیوں میں مساوات، احترام اور باہمی مفاد کو ترجیح دی ہے۔
تیانجن سربراہ اجلاس کا عالمی اثر
روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم کے تیانجن سربراہ اجلاس کے حوالے سے پیش کی جانے والی توقعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ اجلاس ایس سی او کی تاریخ کا ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔ عالمی سطح پر نئے چیلنجز اور بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایس سی او کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے، اور پوتن کا یقین ہے کہ یہ اجلاس عالمی سیاست میں ایس سی او کی حیثیت کو مزید مستحکم کرے گا۔ عالمی سطح پر زیادہ منصفانہ اور کثیر قطبی نظام کی تشکیل کے لیے یہ اجلاس اہم سنگ میل ثابت ہو گا، جس کے اثرات عالمی تعلقات، سیاست اور معیشت پر دیرپا اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔