خیبر پختونخوا کے علاقے تیراہ میں فضائی بمباری انسانی حقوق کمیشن کی تشویش اور شہریوں کی ہلاکتوں پر صدمے کا اظہار اور سیاسی قیادت کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ
پشاور : خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں مبینہ فضائی بمباری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس واقعے پر انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی)، صوبائی اسمبلی کے اراکین، قومی اسمبلی کے نمائندے اور مقامی افراد نے نہ صرف افسوس کا اظہار کیا ہے بلکہ اس کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
انسانی حقوق کمیشن کا مؤقف
ایچ آر سی پی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا:
"یہ جان کر ہمیں شدید صدمہ ہوا ہے کہ ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میں مبینہ فضائی بمباری کے نتیجے میں متعدد شہریوں کی اموات ہوئی ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ ریاست آئینی طور پر شہریوں کے حقِ زندگی کے تحفظ کی پابند ہے، لیکن بدقسمتی سے بارہا ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں شہری محفوظ نہیں رہتے۔ کمیشن نے مطالبہ کیا کہ حکام فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
سرکاری مؤقف تاحال غائب
ابھی تک وفاقی یا صوبائی حکومت کے کسی نمائندے نے باضابطہ طور پر تیراہ میں فضائی بمباری پر سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ ڈپٹی کمشنر خیبر بلال شاہد اور ڈسٹرکٹ پولیس افسر مظہر اقبال سے رابطہ پر کوئی جواب نہیں ملا۔
البتہ ایک سینئر پولیس افسر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جیٹ طیاروں نے کم از کم چار گھروں کو تیراہ میں فضائی بمباری کے زریعے نشانہ بنایا جو مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ حملہ کس جانب سے کیا گیا۔
صوبائی قیادت کا ردعمل
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سواتی نے اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ:
فوری شفاف تحقیقات کی جائیں۔
ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ اور ریلیف فراہم کیا جائے۔
متاثرین کی بحالی کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں کی جانوں کا ضیاع اور گھروں کی تباہی ناقابلِ قبول ہے۔
سہیل آفریدی کی اسمبلی میں تقریر
وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات، سہیل آفریدی نے صوبائی اسمبلی اجلاس میں واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ رات 2 بجے پیش آیا۔ ان کے مطابق:
مقامی لوگوں پر مارٹر اور بم برسائے گئے۔
کم از کم 25 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
انہوں نے اس واقعے کی ذمہ داری سیکیورٹی فورسز پر عائد کی۔
تاہم یہ الزامات آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق شدہ نہیں ہیں۔
ڈی آئی خان آپریشن سیکیورٹی فورسز: 7 خوارج ہلاک
قومی اسمبلی رکن کا بیان
خیبر سے رکن قومی اسمبلی محمد اقبال خان آفریدی نے پشتو زبان میں ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا:
” جیٹ طیاروں کی تیراہ میں فضائی بمباری سے بزرگ خواتین اور بچے شہید ہوئے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں، شہریوں کا قتل معمول بنتا جا رہا ہے۔”
انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ جائے وقوع پر پہنچ کر پرامن احتجاج کریں۔
حالیہ پس منظر
تیراہ میں فضائی بمباری جیسا واقعہ کوئی پہلا نہیں۔ اس سے قبل بھی قبائلی اضلاع میں کئی بار شہری ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔
مئی 2025: جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملے میں 7 بچوں سمیت 22 افراد زخمی ہوئے تھے۔
19 مئی 2025: شمالی وزیرستان میں مبینہ ڈرون حملے میں 4 بچے جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے تھے۔
بعد ازاں مقامی افراد نے احتجاج اور دھرنا دیا تھا۔
21 مئی کو آئی ایس پی آر نے بیان میں کہا تھا کہ شمالی وزیرستان کے واقعے میں بھارت کی پشت پناہی سے سرگرم دہشت گرد تنظیم "فتنہ الخوارج” ملوث تھی۔
یہ تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرحدی اور قبائلی اضلاع میں امن و امان کی صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے اور عام شہری اکثر اس کی بھاری قیمت ادا کرتے ہیں۔
تجزیہ: حقِ زندگی اور ریاستی ذمہ داریاں
قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کارکنوں کا کہنا ہے کہ آئینِ پاکستان شہریوں کے حقِ زندگی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکن جب ایسے واقعات میں شہری ہلاک ہوتے ہیں اور ذمہ داری واضح نہیں کی جاتی تو متاثرہ خاندانوں کو انصاف سے محروم رکھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق:
ریاست کو واضح طور پر شفاف تحقیقات کرنی چاہییں۔
تیراہ میں فضائی بمباری کے زمہ داران کی نشاندہی کے بغیر محض خاموشی اختیار کرنا آئینی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔
ایسے واقعات دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو بھی کمزور کرتے ہیں۔
مقامی ردعمل اور احتجاج
علاقے کے عوام نے واقعے کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ذمہ داروں کو سامنے نہیں لایا جاتا اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔
تیراہ میں فضائی بمباری کا یہ (tirah valley bombing)واقعہ نہ صرف ایک سانحہ ہے بلکہ کئی اہم سوالات بھی اٹھاتا ہے:
کیا شہری محفوظ ہیں؟
ایسے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کیوں نہیں ہوتیں؟
کیا قبائلی اضلاع کے عوام ہمیشہ اسی طرح کے جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرتے رہیں گے؟
اب یہ ریاست اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سوالات کے جواب دیں اور متاثرہ خاندانوں کو فوری انصاف فراہم کریں۔
21 معصوم عورتوں، مردوں اور بچوں کے جنازے.
وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سب اس ظلم میں برابر کے شریک ہیں۔#StopStateTerrorism #PashtunLivesMatter #TirahValley #JusticeForPashtuns pic.twitter.com/aqdO4Grqfp
— ✿ (@Benam_) September 22, 2025
One Response