امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ امن منصوبہ :غزہ میں امن فوج کی تعیناتی: پاکستان کا فیصلہ اعلیٰ قیادت کرے گی، اسحٰق ڈار
اسلام آباد — نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا پاکستان غزہ میں امن قائم رکھنے کے لیے اپنی فوج بھیجے یا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ صرف ملکی مفاد، خطے کی صورتحال اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ غزہ امن منصوبہ اور مسلم ممالک کی شمولیت
اسحٰق ڈار نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حالیہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مسلم ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات میں غزہ کے لیے ایک نیا امن منصوبہ پیش کیا گیا۔ ٹرمپ غزہ امن منصوبہ کے تحت فلسطین میں سیز فائر، انسانی امداد کی فراہمی، شہریوں کی واپسی اور مستقبل میں دو ریاستی حل کی ضمانت دینے کی تجاویز شامل ہیں۔
امریکی صدر نے آٹھ مسلم ممالک کے سربراہان اور وزرائے خارجہ سے ملاقات میں کہا کہ "میری ٹیم اور آپ لوگ مل کر ایک قابلِ عمل منصوبہ تیار کریں تاکہ خطے میں دیرپا امن لایا جا سکے۔”
ڈونلڈ ٹرمپ غزہ امن منصوبہ کیا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نیا امن منصوبہ پیش کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس منصوبے کو "غزہ میں ابدی امن” کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
ٹرمپ غزہ امن منصوبہ کے مطابق، منصوبے کے تحت حماس کو حکومت میں کوئی کردار نہیں دیا جائے گا جبکہ تنظیم کو اپنی عسکری سرگرمیاں ختم کرنا ہوں گی۔ ابتدائی مرحلے میں حماس کو 72 گھنٹوں کے اندر تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ غزہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون حاصل کیا جائے گا۔ منصوبے کے مطابق مقامی پولیس فورس کی تربیت، سرنگوں اور اسلحہ سازی کے مراکز کا خاتمہ اور ایک عبوری انتظامیہ کے قیام جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔

ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایک نیا بین الاقوامی نگران ادارہ، "بورڈ آف پیس”، قائم کیا جائے گا جس میں عرب رہنماؤں، اسرائیل اور امریکا کی نمائندگی ہوگی۔ اس ادارے کا مقصد منصوبے پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔
امریکی صدر نے اس موقع پر عرب اور مسلم ممالک کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ متعدد ریاستوں نے منصوبے میں تعاون اور عملی شمولیت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اشارہ دیا کہ ایران بھی اس فریم ورک کا حصہ بن سکتا ہے۔
اگر حماس اس معاہدے کو مسترد کرتا ہے تو ٹرمپ کے مطابق اسرائیل کو "مکمل امریکی حمایت” حاصل ہوگی اور عسکری اقدامات کے اختیار کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی ٹرمپ غزہ امن منصوبہ کو "ایک مثبت پیش رفت” قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
پاکستان کا واضح مؤقف
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس میں شرکت سے قبل ہی غزہ کے حوالے سے مسلم ممالک کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کر دیا تھا۔ پاکستان نے واضح کر دیا تھا کہ امن قائم رکھنے کے کسی بھی عمل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ریکارڈ کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ یہ عالمی سطح پر قانونی اور مؤثر ہو۔

اسحٰق ڈار نے مزید کہا:
پاکستان کے نزدیک اصل حل فلسطینی عوام کو بااختیار بنانا ہے۔ گراؤنڈ پر صرف فلسطینی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور فورسز ہی کام کریں گی، جبکہ دیگر ممالک کا کردار معاونت اور سہولت کاری تک محدود ہونا چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف ڈونلڈ ٹرمپ غزہ امن منصوبہ پر خیر مقدم
انڈونیشیا کی پیشکش اور دیگر ممالک کا ردعمل
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ انڈونیشیا نے فلسطین میں 20 ہزار امن فوجی تعینات کرنے کی پیشکش کی ہے۔ پاکستان نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا لیکن کہا کہ حتمی فیصلہ اعلیٰ قیادت مشاورت کے بعد کرے گی۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک نے مشترکہ اعلامیہ جاری کر کے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مل کر غزہ میں امن، سیکیورٹی اور بحالی کے عمل کو یقینی بنائیں گے۔ فلسطینی اتھارٹی نے بھی اس اعلامیے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
خفیہ ملاقاتیں اور کلاسیفائیڈ تجاویز
اسحٰق ڈار نے انکشاف کیا کہ امریکی اور مسلم رہنماؤں کے درمیان کچھ خفیہ میٹنگز بھی ہوئیں جنہیں کلاسیفائیڈ قرار دیا گیا۔ ان ملاقاتوں میں تجاویز صرف کاغذی شکل میں تبادلہ کی گئیں اور کسی بھی قسم کا الیکٹرانک میڈیم استعمال نہیں ہوا تاکہ معلومات لیک نہ ہو سکیں۔
ان کے مطابق "ان اجلاسوں میں ہم نے بھی اپنی تجاویز دیں، امریکی ٹیم نے بھی کچھ نکات پیش کیے، اور بالآخر ایک متفقہ ڈرافٹ تیار ہوا جسے بعد میں مشترکہ اعلامیے کی شکل دی گئی۔”

مشترکہ اعلامیہ اور فلسطینی اتھارٹی کا ردعمل
آٹھ ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ:
فوری سیز فائر پر زور دیا گیا۔
امداد کی فراہمی اور یرغمالیوں کی رہائی کو اولین ترجیح قرار دیا گیا۔
اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور دو ریاستی حل پر زور دیا گیا۔
غزہ کی تباہ حال پٹی کی بحالی اور بے گھر شہریوں کی واپسی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے اس اعلامیے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عرب اور اسلامی دنیا کی اجتماعی کوششوں کا ثمر ہے۔
تنقید اور اسحٰق ڈار کا جواب
اس موقع پر کچھ حلقوں کی جانب سے پاکستان کے ممکنہ کردار پر تنقید بھی کی گئی جس پر اسحٰق ڈار نے سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا:
یہ معصوم بچوں اور بے گناہ شہریوں کی زندگیاں بچانے کا معاملہ ہے، اس پر سیاست نہ کریں۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ غزہ میں امن قائم کرنے میں مثبت کردار ادا کریں۔
پاکستان کے لیے ممکنہ چیلنجز
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ٹرمپ غزہ امن منصوبہ کے لیے پاکستان اپنی فوج بھیجنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ ملک کے لیے ایک بڑا سفارتی اور عسکری چیلنج ہوگا۔ اس سے خطے میں پاکستان کے کردار پر عالمی سطح پر مثبت اثرات پڑ سکتے ہیں لیکن ساتھ ہی داخلی طور پر سیاسی مباحث بھی شدت اختیار کریں گے۔
کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کو ٹرمپ غزہ امن منصوبہ(trump gaza peace plan) میں محتاط رہنا چاہیے کیونکہ ماضی میں بھی بین الاقوامی امن مشنز میں فوجی بھیجنے پر داخلی سیاست میں اختلافات پیدا ہوئے تھے۔
غزہ کی صورتحال اس وقت دنیا کے سب سے بڑے انسانی المیوں میں سے ایک ہے۔ لاکھوں شہری بے گھر اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کی ہے اور اب ایک بار پھر عالمی امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے قریب ہے۔ البتہ یہ کردار کس شکل میں ہوگا، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں اعلیٰ قیادت کرے گی۔
https://t.co/RfYzuanhO1 pic.twitter.com/EP4LZbwZHg
— The White House (@WhiteHouse) September 29, 2025
READ MORE FAQS
- سوال: ڈونلڈ ٹرمپ غزہ امن منصوبہ کیا ہے؟
جواب: اس منصوبے میں سیز فائر، انسانی امداد، حماس کی غیر مسلح حیثیت، یرغمالیوں کی رہائی اور "بورڈ آف پیس” کے قیام کی تجاویز شامل ہیں۔ - سوال: پاکستان کا غزہ امن منصوبہ پر مؤقف کیا ہے؟
جواب: پاکستان نے کہا کہ فیصلہ اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت ملکی مفاد دیکھ کر کرے گی۔ - سوال: کیا انڈونیشیا نے کوئی پیشکش کی ہے؟
جواب: جی ہاں، انڈونیشیا نے 20 ہزار امن فوجی تعینات کرنے کی پیشکش کی ہے۔ - سوال: فلسطینی اتھارٹی کا ردعمل کیا ہے؟
جواب: فلسطینی اتھارٹی نے عرب و مسلم ممالک کے مشترکہ اعلامیے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ - سوال: پاکستان کے لیے کیا چیلنجز ہو سکتے ہیں؟
جواب: یہ فیصلہ پاکستان کے لیے بڑا سفارتی اور داخلی سیاسی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں امن مشنز میں ہوا۔
One Response