ٹرمپ کا رضا پہلوی پر عدم اعتماد، ایران میں قیادت کی تبدیلی پر شکوک کا اظہار

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رضا پہلوی پر عدم اعتماد
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ٹرمپ کا رضا پہلوی پر عدم اعتماد، ایران میں قیادت کی تبدیلی پر شکوک کا اظہار

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سابق شاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے بیٹے رضا پہلوی کی عوامی مقبولیت اور قیادت کی اہلیت پر کھل کر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ایران میں مذہبی حکومت کا خاتمہ ممکن ہے، تاہم رضا پہلوی کی کامیابی کے بارے میں انہیں یقین نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں تہران کی حکومت گر سکتی ہے، کیونکہ کوئی بھی نظام ناکام ہو سکتا ہے، مگر یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگپاکستان ایران کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے گا
دفتر خارجہ کی جانب سے پاکستان کا ایران سے متعلق مؤقف واضح

ڈونلڈ ٹرمپ نے رضا پہلوی کے اقتدار سنبھالنے کے امکانات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ آیا ایرانی عوام ان کی قیادت قبول کریں گے یا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایرانی عوام کسی متبادل قیادت کو منتخب کرتے ہیں تو امریکا کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

صدر ٹرمپ کا رضا پہلوی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں حتمی رائے قائم نہیں کر سکتے، کیونکہ ایران میں صورتِ حال ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچی کہ نئی قیادت کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رضا پہلوی اچھے انسان دکھائی دیتے ہیں، مگر یہ واضح نہیں کہ وہ ایران کے اندر عوامی حمایت حاصل کر سکیں گے یا نہیں۔

ٹرمپ نے زور دیا کہ ایران میں قیادت کی تبدیلی سے متعلق فیصلہ صرف اور صرف ایرانی عوام کو کرنا چاہیے، اور نئی قیادت کے انتخاب کا عمل ملک کے اندر سے ہی آنا چاہیے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ٹرمپ کا رضا پہلوی پر عدم اعتماد کا شکار ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے صاحبزادے ہیں، جنہیں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ رضا پہلوی اس وقت امریکا میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران بیرون ملک ایرانی اپوزیشن کی ایک نمایاں آواز کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]