پاکستان کا طالبان حکومت کو سخت پیغام: ٹی ٹی پی اور را کی افغانستان میں موجودگی ناقابل قبول

ٹی ٹی پی اور را کی افغانستان میں موجودگی پر پاکستان کا سخت پیغام
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان کا طالبان حکومت کو سخت پیغام

پاکستان نے ایک بار پھر افغانستان میں سرگرم دہشت گرد عناصر پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کو دوٹوک الفاظ میں پیغام دیا ہے کہ ٹی ٹی پی اور را کی افغانستان میں موجودگی کسی طور برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس پیغام کو افغان عبوری سفیر کے ذریعے طالبان حکومت تک پہنچایا گیا۔

افغان سفیر کی طلبی اور پاکستان کا انتباہ

اسلام آباد میں تعینات افغان عبوری سفیر سردار احمد شکیب کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا جہاں ایڈیشنل فارن سیکرٹری سید علی اسد گیلانی نے انہیں پاکستان کا سخت موقف پہنچایا۔ سفیر کو واضح طور پر کہا گیا کہ افغان طالبان حکومت کو اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں خصوصاً تحریک طالبان پاکستان اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہوگا۔

افغان سفیر کی طلبی اور پاکستان کا انتباہ

ٹی ٹی پی اور را کا گٹھ جوڑ

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق حالیہ دنوں میں فتنہ الخوارج دہشتگردوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے، یہ عناصر افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور انہیں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی مالی امداد اور سرپرستی حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے واضح کیا کہ ٹی ٹی پی اور را کی افغانستان میں موجودگی دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے خطرہ ہے۔

طالبان کے وعدے اور پاکستان کا مطالبہ

پاکستان نے افغان طالبان کو یاد دلایا کہ انہوں نے عالمی سطح پر یہ وعدہ کیا تھا کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ اس تناظر میں پاکستان کا مطالبہ ہے کہ طالبان حکومت نہ صرف ٹی ٹی پی سے مکمل دوری اختیار کرے بلکہ ان دہشت گردوں کے خلاف عملی اقدامات بھی کرے۔

افغانستان کے ساتھ سفارتی رابطے

اعلیٰ سفارتی ذرائع کے مطابق افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق خان حال ہی میں ایک غیر اعلانیہ مشن پر متحدہ عرب امارات گئے تھے، جہاں انہوں نے افغانستان کی صورتحال پر اہم ملاقاتیں کیں۔ اب وہ اپنی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کریں گے اور متوقع ہے کہ اسی ہفتے ایک وفد کے ہمراہ کابل کا دورہ کریں گے تاکہ طالبان حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت ہو سکے۔

پاکستان کا واضح پیغام

پاکستان نے یہ بھی باور کرایا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی براہ راست افغانستان میں پناہ لینے والے گروہوں سے منسلک ہے۔ طالبان حکومت کو بتا دیا گیا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی اور را کی افغانستان میں موجودگی برقرار رہی تو اس کے خطے کی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

علاقائی امن اور پاکستان کا کردار

پاکستان ہمیشہ افغانستان میں امن اور استحکام کا حامی رہا ہے اور طالبان حکومت کو مسلسل یہ باور کراتا رہا ہے کہ باہمی تعلقات اسی وقت بہتر ہوسکتے ہیں جب سرحد پار سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سفارتی تعلقات تبھی آگے بڑھ سکتے ہیں جب دہشت گردی کے نیٹ ورکس ختم ہوں۔

‫آئی بی نے خلیج میں قائم RAW نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، پاکستان میں دہشت گردی کی گھناؤنی سازش ناکام‬

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]