9 ستمبر کو اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر فضائی حملہ کیا جس کا ہدف فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی قیادت تھی۔ اگرچہ مرکزی قیادت محفوظ رہی لیکن اس حملے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ اقدام نہ صرف خطے میں سفارتی کشیدگی بڑھانے کا باعث بنا بلکہ قطر کی ثالثی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
یو اے ای کا مؤقف اور فیصلہ
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے انکشاف کیا کہ متحدہ عرب امارات نے نومبر میں ہونے والے عالمی ائیر شو میں اسرائیل کو شرکت کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ یو اے ای نے اسرائیل کو ائیر شو سے روک دیا جو کہ براہ راست قطر پر حملے کے تناظر میں ایک سخت سفارتی پیغام سمجھا جا رہا ہے۔

اماراتی حکام نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ اس شو میں اسرائیلی دفاعی کمپنیاں شرکت نہیں کر سکیں گی۔ اگرچہ کوئی وجہ واضح طور پر بیان نہیں کی گئی، تاہم اسرائیلی حکام کو یقین ہے کہ اس فیصلے کی اصل وجہ قطر پر حملہ ہے۔
اسرائیلی سفیر کی طلبی
اماراتی حکومت نے قطر پر حملے کے بعد اسرائیلی سفیر کو بھی طلب کیا۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ خلیجی ممالک اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں سے نہ صرف ناخوش ہیں بلکہ ان پر عملی دباؤ ڈالنے کی پالیسی اپنا رہے ہیں۔
خطے پر اثرات
یہ فیصلہ خطے میں طاقت کے توازن اور سفارتی تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ یو اے ای نے اسرائیل کو ائیر شو سے روک دیا جس کے نتیجے میں اسرائیل کو اپنی دفاعی صنعت کے لیے عالمی سطح پر نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف قطر کو خلیجی ممالک کی حمایت بھی ملتی دکھائی دے رہی ہے۔
سفارتی پیغام
امارات کے اس اقدام کو ایک واضح سفارتی پیغام سمجھا جا رہا ہے کہ خلیجی ممالک اسرائیل کے جارحانہ رویے کو مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب قطر غزہ میں امن قائم کرنے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔
اسرائیلی ردعمل
اگرچہ اسرائیل نے اس فیصلے پر براہ راست کوئی شدید ردعمل نہیں دیا، لیکن دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسرائیل کے لیے نہایت پریشان کن ہے۔ ائیر شو میں شرکت نہ کرنے سے اسرائیلی دفاعی کمپنیاں اپنی مصنوعات کو عالمی منڈی میں پیش کرنے کے مواقع سے محروم ہو جائیں گی۔
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ یو اے ای نے اسرائیل کو ائیر شو سے روک دیا ایک تاریخی فیصلہ ہے جو خلیجی ممالک کی اسرائیل مخالف پالیسی میں اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ قطر پر حملے کے بعد اسرائیل کو خطے میں سفارتی سطح پر مزید تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔











