اقوام متحدہ کا حالیہ 27آئینی ترامیم پر تشویش، صدر اور فیلڈ مارشل کے تاحیات استثنیٰ سے احتساب کمزور ہو گا

اقوام متحدہ کا حالیہ 27آئینی ترامیم پر تشویش کا اظہار
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اقوام متحدہ کا حالیہ 27آئینی ترامیم پر تشویش، صدر اور فیلڈ مارشل کے تاحیات استثنیٰ سے احتساب کمزور ہو گا، یہ ترامیم عدلیہ کی آزادی کو بھی متاثر کر رہی ہیں

اسلام آباد(رئیس الاخبار) :— اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے پاکستان میں کی گئی تازہ ترین آئینی ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تبدیلیاں عدلیہ کی آزادی، فوجی احتساب اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کو کمزور کرتی ہیں۔

جمعے کے روز جاری کیے گئے اپنے بیان میں فولکر ترک کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے ’’عجلت میں‘‘ کی گئی یہ ترامیم عدلیہ کی آزادی کو متاثر کر رہی ہیں اور یہ عمل انسانی حقوق کے تحفظ اور انصاف کے مؤثر نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ہائی کمشنر نے کہا کہ ان ترامیم پر نہ تو وکلا برادری سے مشاورت کی گئی اور نہ ہی سول سوسائٹی سے کوئی بامعنی رابطہ کیا گیا، جو کہ قانون سازی کے عمل کی شفافیت کے لیے ضروری ہے۔

آئینی ترمیم اور نیا فیڈرل کونسٹیٹیوشنل کورٹ


13 نومبر کو منظور ہونے والی ترمیم کے مطابق ایک نیا فیڈرل کونسٹیٹیوشنل کورٹ (ایف سی سی) قائم کر دیا گیا ہے، جسے آئینی مقدمات پر مکمل اختیار دے دیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہ اختیار سپریم کورٹ کے پاس تھا، جو اب صرف دیوانی اور فوجداری نوعیت کے کیسز تک محدود ہو جائے گی۔ نئے ادارے کے پہلے چیف جسٹس اور ججوں کی تقرری صدر نے وزیر اعظم کی مشاورت سے کر دی ہے، جس پر غیر جانبداری سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کا حالیہ 27آئینی ترامیم پر تشویش فولکر ترک کے مطابق ججوں کی تقرری، ترقی اور تبادلوں کے نئے طریقہ کار سے عدلیہ پر انتظامی اثر و رسوخ بڑھنے کا خدشہ ہے، اور اس سے سیاسی مداخلت کے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔

سیاسی مداخلت اور عدلیہ کی آزادی پر سوالات


ہائی کمشنر نے واضح کیا کہ عدلیہ کا حکومت سے آزاد رہنا لازمی ہے، ورنہ انصاف کی فراہمی غیر یقینی ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو کسی بھی سیاسی اثر سے محفوظ ہونا چاہیے، اور انتظامیہ یا پارلیمنٹ کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ عدلیہ کے فیصلوں یا ڈھانچے پر اثر انداز ہوں۔

اقوام متحدہ کا حالیہ 27آئینی ترامیم پر تشویش اگر جج آزاد نہ ہوں تو قانون سب کے لیے یکساں نہیں رہتا اور انسانی حقوق کے تحفظ میں بڑے چیلنجز جنم لیتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کا 27ویں آئینی ترمیم مسترد
مولانا فضل الرحمٰن 27ویں آئینی ترمیم کی مخالفت پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے

فوجی قیادت کے لیے وسیع استثنیٰ پر بھی تشویش


ترمیم کے ایک اہم حصے میں صدر، فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کو تاحیات فوجداری کارروائی اور گرفتاری سے مکمل استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔ فولکر ترک نے کہا کہ ایسی وسیع استثنیٰ کی شقیں احتساب کے نظام کو کمزور کرتی ہیں اور مسلح افواج پر جمہوری کنٹرول کے بنیادی اصولوں کو متاثر کرتی ہیں۔

"ڈیموکریسی اور رول آف لا کے لیے خطرہ”


فولکر ترک نے خبردار کیا کہ یہ ترامیم ان اصولوں کے لیے ’’دور رس اور خطرناک‘‘ نتائج پیدا کر سکتی ہیں جنہیں پاکستانی عوام عزیز رکھتے ہیں، یعنی جمہوریت، شفافیت اور قانون کی حکمرانی۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]