ازبکستان کے صدر کا دورہ پاکستان: نور خان ایئر بیس پر توپوں کی سلامی، صدر زرداری اور وزیراعظم کا استقبال

ازبکستان کے صدر کا دورہ پاکستان نور خان ایئر بیس استقبال
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

نور خان ایئر بیس پر صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کا ازبک صدر کو پرتپاک ویلکم

صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ازبکستان کے صدر کا نور خان ایئر بیس پر پرتپاک اور شایانِ شان استقبال کیا۔ اس موقع پر پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی موجودگی نے اس دورے کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا، جو دونوں برادر ممالک کے مابین تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔

ازبکستان کے صدر کی آمد پر نور خان ایئر بیس کو خصوصی طور پر سجایا گیا تھا۔ پاکستان اور ازبکستان کے قومی پرچم آویزاں تھے جبکہ روایتی انداز میں مہمانِ خصوصی کا استقبال کیا گیا۔ معزز مہمان کے طیارے کے اترتے ہی فضاء پاکستان اور ازبکستان کی دوستی کے نعروں سے گونج اٹھی۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آگے بڑھ کر ازبک صدر سے مصافحہ کیا اور انہیں پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔

استقبال کے دوران ازبکستان کے صدر کو توپوں کی سلامی بھی پیش کی گئی، جو دونوں ممالک کے درمیان احترام، دوستی اور مضبوط سفارتی تعلقات کی علامت ہے۔ پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا جبکہ قومی ترانہ بجایا گیا، جس سے ماحول میں وقار اور رسمی عظمت کا احساس نمایاں تھا۔ اس موقع پر ازبک صدر نے سلامی کا معائنہ کیا اور گارڈ آف آنر کو سراہا۔

استقبالی تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان بھی موجود تھے، جن کی شرکت اس دورے کی سیاسی اور سفارتی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اعلیٰ سول و عسکری حکام، سفارتی نمائندگان اور متعلقہ اداروں کے افسران بھی تقریب کا حصہ تھے۔

ازبک صدر کے اس دورے کو پاکستان اور ازبکستان کے مابین دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور یہ دورہ ان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا ایک اہم موقع فراہم کر رہا ہے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق یہ دورہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹرانسپورٹ، علاقائی روابط اور ثقافتی تبادلوں کے شعبوں میں نئے معاہدوں اور تعاون کی راہیں ہموار کر سکتا ہے۔

دورے کے دوران ازبک صدر کی صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں، جن میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال، اقتصادی تعاون اور وسطی ایشیا و جنوبی ایشیا کے درمیان روابط کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے، بزنس ٹو بزنس روابط، اور مشترکہ منصوبوں پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

پاکستان اور ازبکستان وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کو جوڑنے والے اہم شراکت دار ہیں۔ ازبکستان کی جغرافیائی حیثیت اور پاکستان کی بندرگاہوں تک رسائی دونوں ممالک کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے۔ اسی تناظر میں اس دورے کو علاقائی تجارت اور اقتصادی راہداریوں کے فروغ کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ازبک صدر کا یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنائے گا بلکہ خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ میں بھی مثبت کردار ادا کرے گا۔ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف تعاون، تعلیمی و ثقافتی تبادلوں اور عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔

ازبکستان کے صدر کی پاکستان آمد پر دونوں ممالک کے عوام میں بھی خوشی کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا اور سفارتی حلقوں میں اس دورے کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ ملاقاتیں مستقبل میں ٹھوس اور دیرپا نتائج کی حامل ثابت ہوں گی۔

مجموعی طور پر ازبک صدر کا یہ دورہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جو باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور دیرپا شراکت داری پر مبنی ہوگا۔ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے دیا گیا پرتپاک استقبال اس عزم کا مظہر ہے کہ دونوں ممالک مستقبل میں مزید قریب آ کر خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کریں گے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]