وادی سوات میں برف باری سے نظام زندگی متاثر، کالام و مہوڈنڈ میں ایک فٹ برف

وادی سوات میں برف باری کا دلکش منظر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وادی سوات میں برف باری: کالام، مالم جبہ، مہوڈنڈ اور اتروڑ شدید سردی کی لپیٹ میں

وادی سوات کے بالائی علاقوں میں موسم سرما نے ایک بار پھر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ حاضری دے دی ہے۔ کالام، مالم جبہ، مٹلتان، پلوگاہ، مہوڈنڈ اور اتروڑ سمیت مختلف بالائی مقامات پر ہونے والی شدید برف باری کے باعث نہ صرف درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے بلکہ پورا خطہ سفید چادر اوڑھے ایک دلکش منظر پیش کر رہا ہے۔ مسلسل برف باری نے جہاں قدرتی حسن کو دوبالا کر دیا ہے وہیں سردی کی شدت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔

کالام میں اب تک تقریباً چار انچ برف باری ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مہوڈنڈ جھیل اور پلوگاہ کے علاقوں میں ایک فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق برف باری کا یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جس کے باعث ان علاقوں میں شدید سردی پڑ رہی ہے۔ رات کے اوقات میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گرنے کے سبب معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

ملتان، اتروڑ اور اس سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں بھی ہلکی سے درمیانی شدت کی برف باری دیکھی گئی ہے۔ پہاڑوں، درختوں اور مکانات کی چھتوں پر جمی برف نے پورے علاقے کو کسی دلکش تصویری البم کا منظر بنا دیا ہے۔ صبح کے وقت سورج کی کرنیں جب برف پر پڑتی ہیں تو وہ منظر دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتا ہے۔

ادھر سوات کے شہری علاقوں میں ہلکی ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ بارش کے باعث موسم مزید سرد ہو گیا ہے اور ٹھنڈی ہوائیں سردی کی شدت میں اضافہ کر رہی ہیں۔ مینگورہ، سیدو شریف اور گرد و نواح میں دن کے وقت بھی خنکی برقرار ہے جبکہ رات کے اوقات میں لوگ گرم کپڑوں اور رضائیوں کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔

شدید سردی کے باعث بالائی علاقوں میں زندگی کا پہیہ سست پڑ گیا ہے۔ مقامی آبادی کو روزمرہ کے کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بعض مقامات پر رابطہ سڑکیں برف سے ڈھک جانے کے باعث جزوی طور پر بند ہو گئی ہیں، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے برف ہٹانے والی مشینری کو الرٹ رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

برف باری جہاں ایک طرف سیاحت کے فروغ کا باعث بن رہی ہے وہیں دوسری جانب مقامی لوگوں کے لیے آزمائش بھی بن گئی ہے۔ مالم جبہ جیسے سیاحتی مقام پر ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سیاح برف سے ڈھکے پہاڑوں، اسکیئنگ اور قدرتی مناظر سے خوب لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ہوٹلوں اور ریسٹ ہاؤسز میں رونقیں بحال ہو گئی ہیں اور مقامی معیشت کو وقتی سہارا ملا ہے۔

تاہم، شدید برف باری کے باعث بجلی کی ترسیل میں خلل، پانی کی فراہمی میں کمی اور ایندھن کی قلت جیسے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ بعض دیہاتی علاقوں میں لوگ لکڑی اور دیگر متبادل ذرائع سے خود کو گرم رکھنے پر مجبور ہیں۔ بزرگوں، بچوں اور مریضوں کے لیے یہ موسم خاص طور پر مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز تک موسم سرد اور ابر آلود رہنے کا امکان ہے جبکہ بالائی علاقوں میں مزید برف باری اور میدانی علاقوں میں بارش متوقع ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور سردی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

برف باری نے اگرچہ معمولاتِ زندگی کو متاثر کیا ہے، لیکن اس کے مثبت پہلو بھی نمایاں ہیں۔ اس برف سے زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافہ ہوگا، فصلوں کے لیے یہ بارش اور برف فائدہ مند ثابت ہوگی اور آنے والے موسمِ بہار میں قدرتی حسن مزید نکھر کر سامنے آئے گا۔

مختصراً، وادی سوات کے بالائی علاقوں میں ہونے والی برف باری نے ایک طرف قدرت کے حسین نظارے بکھیر دیے ہیں تو دوسری جانب سردی کی شدت نے لوگوں کو محتاط رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ موسم جہاں سیاحوں کے لیے خوشی کا پیغام لایا ہے وہیں مقامی آبادی کے لیے صبر، احتیاط اور تعاون کا امتحان بھی ہے۔ اگر انتظامیہ اور عوام باہمی تعاون سے حالات کا مقابلہ کریں تو یہ سرد موسم بھی بخیر و خوبی گزر سکتا ہے، اور وادی سوات اپنی خوبصورتی سے ایک بار پھر سب کے دل جیت لے گی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]