وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اڈیالہ جیل روکے جانے کا واقعہ آٹھویں بار راستہ بند، سیاسی تناؤ بڑھ گیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اڈیالہ جیل روک دیا گیا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

راولپنڈی میں وزیراعلیٰ کے پی کو پھر روک دیا گیا — سیاسی کشیدگی میں اضافہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو ایک بار پھر اڈیالہ جیل کے اطراف پہنچنے پر روکا گیا، جس کے بعد صوبائی چیف ایگزیکٹو اور پولیس کے درمیان صورتحال میں غیر معمولی تناؤ دیکھنے میں آیا۔ وزیراعلیٰ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ روڈ پہنچے تھے، تاہم انہیں فیکٹری ناکہ پر پولیس کی بھاری نفری نے آگے جانے سے روک دیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے پولیس حکام سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلسل رکاوٹیں ’’نفرتوں اور تلخیوں‘‘ میں اضافہ کریں گی، جو پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

"آٹھویں بار شرافت سے آرہا ہوں”—وزیراعلیٰ کی شکوہ بھری گفتگو

پولیس کی جانب سے روکے جانے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے واضح انداز میں کہا کہ وہ آٹھویں مرتبہ شرافت کے ساتھ اڈیالہ روڈ پہنچے ہیں لیکن ہر بار انہیں مختلف بہانوں سے روک دیا جاتا ہے۔ انہوں نے پولیس افسران سے پوچھا کہ جب عدالت ملاقات کی اجازت دیتی ہے تو پولیس اس پر عمل کیوں نہیں کرتی؟
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا:

"میں نے گزشتہ بار بھی کہا تھا کہ اگر مجھے روکنا ہے تو تحریری طور پر بتائیں کہ عدالتی احکامات پر عمل کیوں نہیں ہو رہا، لیکن آپ نے آج تک کوئی تحریری وجہ نہیں دی۔”

انہوں نے پولیس کی کارروائی کو حالات کو ’’زبردستی خراب کرنے‘‘ کی کوشش قرار دیا۔

"ایک صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک”

مذاکرات کے دوران وزیراعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ کو روکنا نہ صرف عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ وفاق اور صوبوں کے تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اڑھائی کروڑ عوام کے منتخب نمائندے کو بار بار روکے جانے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ایک صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے پولیس حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

"کل اگر کسی دوسرے صوبے میں آپ کے کسی نمائندے کے ساتھ ایسا ہو تو کیا آپ کو اچھا لگے گا؟”

تناؤ بڑھنے کے خدشات—وزیراعلیٰ کی وارننگ

سہیل آفریدی نے پولیس کو خبردار کیا کہ ان اقدامات سے ’’نفرتیں اور تلخیاں‘‘ جنم لیں گی، جن کے اثرات قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور سے راولپنڈی آنا جانا آسان نہیں، لیکن وہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ہر بار آ رہے ہیں۔

گورکھپور ناکے پر میڈیا سے گفتگو

روکنے کے واقعے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے گورکھپور ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متعدد اہم نکات اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت نے ہمیشہ قانونی راستے اختیار کیے ہیں اور وہ خود بھی عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دھرنے میں شرکت کے خواہش مند تھے مگر عمران خان کی ہمشیرگان نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔

وزیراعلیٰ نے موجودہ حکومت کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا:

"آپ سمجھتے ہیں حکومت کے پاس کوئی اختیار ہے؟ بانی کی ہدایت پر مذاکرات ہوئے، مگر ان کے پاس بھی اختیارات نہیں تھے۔”

سیاسی صورتِ حال اور ضمنی انتخابات پر سخت مؤقف

سہیل آفریدی نے 8 فروری کے عام انتخابات اور 23 نومبر کے ضمنی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام میں سیاسی عمل پر بداعتمادی بڑھ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ ضمنی انتخابات میں 95 فیصد ووٹرز گھروں سے باہر نہیں نکلے اور یہ عوام کی خاموش مزاحمت تھی، جسے انہوں نے ’’بانی پی ٹی آئی کے ساتھ یکجہتی‘‘ قرار دیا۔

وزیراعلیٰ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر ان کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے، اور وہ "آخری راستے” پر غور کر رہے ہیں۔

اقتصادی بدحالی، کرپشن اور قومی چیلنجز

میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ملکی معاشی صورت حال پر بھی سخت لہجہ اختیار کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ حکومتی اقدامات میں شفافیت کا فقدان ہے اور آئی ایم ایف نے موجودہ حکمرانوں پر چارج شیٹ پیش کی ہے۔

انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ مبینہ 5300 ارب روپے کی کرپشن پر بھی بات کریں، جسے انہوں نے ’’عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ‘‘ قرار دیا۔

این ایف سی ایوارڈ—وفاق اور صوبوں میں کشیدگی کی نئی مثال؟

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بے روزگاری بڑھ رہی ہے، نوجوان بیرونِ ملک جا رہے ہیں، اور مالی وسائل کی غیر مساوی تقسیم صوبوں کو متاثر کر رہی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ این ایف سی اجلاس میں بھرپور انداز میں اپنے صوبے کا مقدمہ لڑیں گے اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت نے چار مرتبہ این ایف سی اجلاس ملتوی کیا ہے۔

سیاسی ماحول میں مزید کشیدگی کا امکان

اڈیالہ روڈ پر وزیراعلیٰ کو روکنے کا واقعہ پہلے سے موجود سیاسی تناؤ میں ایک اور اضافہ سمجھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق آئندہ چند دنوں میں اس کیس، ملاقاتوں اور سیاسی ردعمل کے حوالے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت عدالت اسلام آباد
اسلام آباد کی عدالت میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے دوران وکلاء کی پیشی۔
جے یو آئی رہنما فرخ کھوکھر کی گرفتاری پر شدید ردعمل کی تصویر
جے یو آئی نے فرخ کھوکھر کی گرفتاری کو حکومتی ناکامی قرار دیا
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]