وفاق المدارس نے آن لائن تعلیم پر پابندی لگا دی – اہم فیصلے سامنے آگئے

وفاق المدارس نے آن لائن تعلیم پر پابندی لگا دی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وفاق المدارس نے آن لائن تعلیم پر پابندی لگا دی – تفصیلی رپورٹ

دینی تعلیمی اداروں کی سب سے بڑی تنظیم وفاق المدارس نے آن لائن تعلیم پر پابندی لگا دی۔ یہ فیصلہ ایک اہم اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی نے کی۔ اجلاس میں ملک بھر کے مدارس کے لیے کئی نئے ضابطے اور پالیسی فیصلے سامنے آئے، جنہوں نے دینی طبقے کے ساتھ ساتھ تعلیمی حلقوں میں بھی بحث چھیڑ دی ہے۔

اجلاس میں اہم فیصلے

اجلاس کے دوران سب سے نمایاں فیصلہ یہی سامنے آیا کہ وفاق المدارس نے آن لائن تعلیم پر پابندی لگا دی۔ اجلاس میں واضح طور پر کہا گیا کہ وفاق المدارس کے ماتحت کسی بھی مدرسے میں آن لائن نظام تعلیم کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

طلبہ اور داڑھی کا معاملہ

ایک اور بڑا فیصلہ یہ کیا گیا کہ داڑھی کاٹنے والے طلبہ وفاق المدارس کے تحت امتحان دینے کے اہل نہیں ہوں گے۔ اگر کسی مدرسے نے داڑھی کاٹنے والے طالب علم کا داخلہ بھیجا تو اس مدرسے سے وضاحت طلب کی جائے گی۔ اگر وضاحت تسلی بخش نہ ہوئی تو متعلقہ مدرسے کا الحاق بھی معطل کر دیا جائے گا۔

ویڈیوز اور تصاویر پر پابندی

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ وفاق المدارس سے وابستہ کسی بھی تقریب یا اجتماع کی ویڈیوز اور تصاویر جاری نہیں کی جائیں گی۔ یعنی مدارس کے اندر تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کو صرف محدود سطح تک رکھا جائے گا اور سوشل میڈیا یا دیگر پلیٹ فارمز پر شیئر نہیں کیا جائے گا۔

ریاست اور شریعت کے حوالے سے مؤقف

وفاق المدارس نے واضح کیا کہ وہ ریاست کے خلاف شریعت کے نام پر اسلحہ اٹھانے کی کھلی مخالفت کرتے ہیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ملک میں نفاذ شریعت کے لیے صرف پرامن تحریک ہی درست راستہ ہے۔ اس بیان کے بعد یہ بات مزید واضح ہوگئی کہ دینی ادارے کسی بھی قسم کی مسلح تحریک کا حصہ نہیں ہیں۔

خواتین کے مدارس اور نئے ضوابط

اجلاس میں خواتین کے مدارس سے متعلق بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ خواتین مدارس کے نت نئے مسائل کے پیش نظر نئے قواعد و ضوابط مرتب کیے جائیں گے تاکہ تعلیمی معیار اور نظم و ضبط مزید بہتر بنایا جا سکے۔

نصاب اور نئی کتب کی تیاری

وفاق المدارس نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ آئندہ سے پرائمری، چھٹی اور ساتویں جماعت کی کتب وفاق کی نگرانی میں تیار کی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے ٹیکسٹ بک بورڈ سمیت دیگر اداروں کی کتب کو مدنظر رکھا جائے گا تاکہ جدید اور متوازن نصاب فراہم کیا جا سکے۔

سالانہ امتحانات کا نیا طریقہ

ایک اور بڑا فیصلہ یہ کیا گیا کہ آئندہ وفاق المدارس کے تحت ہونے والے سالانہ امتحانات دو مراحل میں منعقد ہوں گے۔ اس کا مقصد امتحانات کے معیار کو مزید بہتر بنانا اور طلبہ کی قابلیت کو بہتر انداز میں پرکھنا ہے۔

سودی نظام کے خاتمے میں تعاون

وفاق المدارس نے اعلان کیا کہ سودی نظام کے خاتمے کے لیے اسٹیٹ بینک کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔ منتخب دینی ادارے حکومت اور مالیاتی اداروں کو اس سلسلے میں رہنمائی اور معاونت فراہم کریں گے۔

آن لائن تعلیم کی پابندی پر ردعمل

یہ فیصلہ کہ وفاق المدارس نے آن لائن تعلیم پر پابندی لگا دی، ملک بھر میں مختلف حلقوں میں زیر بحث ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ آن لائن تعلیم جدید دور کی ضرورت ہے اور مدارس کو اس سہولت سے محروم نہیں کرنا چاہیے، جبکہ دوسرے طبقے کا کہنا ہے کہ دینی تعلیم کی اصل روح استاد اور شاگرد کے براہِ راست تعلق میں ہے، اس لیے آن لائن سسٹم سے اجتناب بہتر ہے۔

افغانستان انٹرنیٹ بندش نے شہریوں اور کاروبار کو شدید متاثر کیا

اجلاس میں کیے گئے فیصلے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وفاق المدارس اپنی پالیسیوں کو سختی سے نافذ کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ سب سے نمایاں فیصلہ یہی ہے کہ وفاق المدارس نے آن لائن تعلیم پر پابندی لگا دی، اور اس کے ساتھ ساتھ داڑھی، خواتین مدارس، نصاب، امتحانات اور سودی نظام کے خاتمے جیسے اہم معاملات پر بھی اصولی موقف اپنایا گیا۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ان فیصلوں پر کس حد تک عملدرآمد ہوتا ہے اور ان کے دینی و تعلیمی اثرات کس طرح سامنے آتے ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]