وفاقی کابینہ کا اجلاس آج شام طلب، وزیراعظم شہباز شریف عالمی ایشوز پر ارکان کو اعتماد میں لیں گے
وفاقی حکومت نے موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے وفاقی کابینہ کا اجلاس آج شام طلب کر لیا ہے، جس کی صدارت وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کریں گے۔ یہ اجلاس نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں وزیراعظم کابینہ کے ارکان کو عالمی امور، بین الاقوامی پیش رفت اور ان کے پاکستان پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تفصیلی طور پر اعتماد میں لیں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی، معاشی اور اسٹریٹجک صورتحال پر جامع غور کیا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف کابینہ کے اراکین کو خطے اور دنیا میں رونما ہونے والی اہم تبدیلیوں، عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات، اور موجودہ بین الاقوامی چیلنجز پر بریفنگ دیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی خارجہ پالیسی، سفارتی ترجیحات اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنائی گئی حکمتِ عملی پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔
موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں یہ اجلاس اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ دنیا مختلف سیاسی و معاشی دباؤ، جغرافیائی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کے مابین بدلتے توازن سے گزر رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کو نہایت دانشمندانہ اور متوازن فیصلوں کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیں گے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر عالمی امن، استحکام اور باہمی تعاون کا حامی ہے۔
اجلاس میں عالمی معاشی صورتحال، مہنگائی، توانائی بحران، بین الاقوامی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور ان کے ملکی معیشت پر اثرات پر بھی تبادلۂ خیال متوقع ہے۔ وزیراعظم کابینہ کے ارکان کو آگاہ کریں گے کہ حکومت عالمی معاشی دباؤ کے باوجود ملکی معیشت کو مستحکم کرنے، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کن اقدامات پر عمل پیرا ہے۔ اس حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل پر کابینہ کی تجاویز اور آراء بھی لی جائیں گی۔
وفاقی کابینہ کے اس اجلاس میں علاقائی سلامتی کے امور بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف خطے میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پاکستان کے مؤقف کو واضح کریں گے۔ اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا جائے گا کہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات، باہمی احترام اور عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند ہے، جبکہ اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کابینہ کے اراکین کو بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں، اہم عالمی رہنماؤں سے روابط اور حالیہ سفارتی کامیابیوں کے بارے میں بھی اعتماد میں لیں گے۔ اس بریفنگ کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کے تمام اہم فیصلہ ساز عالمی حالات سے مکمل طور پر باخبر رہیں اور قومی مفاد میں یکسوئی کے ساتھ فیصلے کیے جا سکیں۔
یہ اجلاس داخلی و خارجی پالیسی کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کی ایک کوشش بھی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اس بات پر زور دیں گے کہ عالمی حالات کا براہِ راست اثر ملکی سیاست، معیشت اور عوامی فلاح پر پڑتا ہے، اس لیے حکومت کے تمام اداروں اور کابینہ کے ارکان کا ایک صفحے پر ہونا نہایت ضروری ہے۔ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اجتماعی سوچ اور مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
وفاقی کابینہ کے اس اجلاس میں دیگر اہم قومی امور پر بھی گفتگو متوقع ہے، تاہم بنیادی توجہ عالمی ایشوز اور موجودہ بین الاقوامی صورتحال پر مرکوز رہے گی۔ اجلاس کے اختتام پر بعض اہم پالیسی رہنما اصول طے کیے جانے اور آئندہ کے لیے حکومتی سمت واضح ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے کابینہ کو عالمی امور پر اعتماد میں لینا ایک مثبت اور بروقت اقدام ہے۔ اس سے نہ صرف حکومتی صفوں میں ہم آہنگی بڑھے گی بلکہ عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مضبوط اور متحد قومی بیانیہ بھی سامنے آئے گا۔ موجودہ حالات میں ایسے اجلاس اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت عالمی منظرنامے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں محتاط اور ذمہ دارانہ رویہ اپنا رہی ہے۔
مجموعی طور پر وفاقی کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار کو مزید واضح کرنے میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ہونے والا یہ مشاورتی عمل اس امر کا مظہر ہے کہ حکومت بدلتے ہوئے عالمی حالات میں قومی مفادات کے تحفظ، عالمی برادری کے ساتھ مؤثر روابط اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھرپور تیاری رکھتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس اجلاس کے فیصلے اور رہنما اصول پاکستان کی داخلی اور خارجی پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔


One Response