زیارت دہشتگردی منصوبہ ناکام—بھاری اسلحہ، بارود اور 5 افغان دہشتگرد گرفتار
بلوچستان کے پُرامن ماحول کو ایک بار پھر دہشت گردی سے غیر مستحکم کرنے کی کوشش اس وقت ناکام بنا دی گئی جب لیویز فورس نے بروقت ایک بڑا آپریشن کرتے ہوئے پانچ مشتبہ افغان دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا۔ یہ کارروائی نہ صرف صوبائی سکیورٹی ایجنسیوں کی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے بلکہ دہشت گردوں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورکس کے خلاف ایک اہم کامیابی بھی ہے۔
آپریشن کیسے شروع ہوا؟
لیویز فورس نے ضلع زیارت میں ایک خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی شروع کی۔ حساس اداروں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق علاقے میں مشتبہ افراد کی نقل و حرکت دیکھی گئی تھی، جو کسی بڑے زیارت دہشتگردی منصوبہ ناکام کرنے کے لئے کافی تھی۔ فورسز نے اس انفارمیشن کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے علاقہ گھیرے میں لیا اور خالصتاً انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے ذریعے مشتبہ دہشتگردوں کو سپیرا رغہ لیویز چیک پوسٹ کے قریب گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
گرفتار دہشتگردوں کی شناخت اور تعلق
ابتدائی رپورٹ کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد کا تعلق افغانستان کے صوبے قندہار سے بتایا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ دہشتگرد بلوچستان میں ایک بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، جس کا ہدف نہ صرف زیارت بلکہ ممکنہ طور پر آس پاس کے اضلاع بھی ہوسکتے تھے۔ ان دہشتگردوں میں سے کئی افراد مبینہ طور پر کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے سہولت کاروں کے رابطے میں بھی پائے گئے۔
بھاری اسلحہ اور بارودی مواد کی برآمدگی
لیویز فورس کی پیشہ ورانہ کارروائی نے اس بڑے زیارت دہشتگردی منصوبہ ناکام بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ملزمان کے قبضے سے جو اسلحہ برآمد ہوا وہ کسی بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی نشاندہی کرتا ہے۔ برآمد ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں:
- 11 ہینڈ گرینیڈ
- 15 ایس ایم جی گرینیڈ
- 3 سب مشین گنز
- 2 ایم فور رائفلز (پارٹس کی صورت میں)
- 420 ایس ایم جی راؤنڈز
- 230 ایم فور راؤنڈز
- ایک کلو بارودی مواد
- ایک گرینیڈ لانچر
- 2 آر پی جی راکٹس
- 6 وائرلیس سیٹس
- 4 موبائل فونز
- موٹر سائیکل، سوزوکی کیری وین
- ٹی ٹی پی کا ممنوعہ لٹریچر
اس بھاری اسلحے سے واضح ہوتا ہے کہ دہشتگرد نہایت منظم طریقے سے کسی بڑی کارروائی کے لئے تیار ہو رہے تھے۔
ضلع انتظامیہ اور لیویز فورس کا کردار
ضلع زیارت کی انتظامیہ نے اس کارروائی میں لیویز فورس کی بھرپور رہنمائی اور معاونت کی۔ ایک سینئر افسر کے مطابق، یہ آپریشن مکمل طور پر مقامی فورسز کی انٹیلی جنس مہارت اور فیلڈ ٹیموں کی تیاری کا نتیجہ تھا۔ لیویز فورس جیسے مقامی ادارے بلوچستان کے امن کے ضامن ہیں، اور بارہا اپنی صلاحیتوں کا عملی ثبوت دیتے رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کا ردعمل
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ لیویز فورس جیسے ادارے صوبے کے امن و امان کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق:
"ان فورسز کی قربانیاں اور بروقت اقدامات دہشتگردوں کے عزائم کو ناکام بنا رہے ہیں، اور حکومت ہر سطح پر ان کا ساتھ دے گی۔”
انہوں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔
مستقبل کے خدشات اور تفتیش کا دائرہ کار
سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار دہشتگردوں سے تفتیش جاری ہے جس سے مزید دہشتگرد نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور ان کی مالی معاونت سے متعلق اہم انکشافات متوقع ہیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق یہ گروہ بلوچستان میں مزید کارروائیوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا، جس کی روک تھام بلاشبہ ایک بڑی کامیابی ہے۔
عوام میں اطمینان کی فضا
اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں میں لیویز فورس کے لیے اعتماد مزید بڑھ گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس بروقت کارروائی نے نہ صرف "زیارت دہشتگردی منصوبہ ناکام” بنایا بلکہ پورے خطے کو ایک بڑے سانحے سے بچا لیا۔
پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ: خودکش دھماکا اور فورسز کی بروقت کارروائی
یہ واضح ہے کہ زیارت میں دہشتگردی کا منصوبہ انتہائی سنگین نوعیت کا تھا۔ لیکن لیویز فورس کی بروقت کارروائی، انٹیلی جنس کی بہتر معلومات اور ضلعی انتظامیہ کی معاونت نے ایک بار پھر دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام کر دیا۔ یہ کامیابی صرف زیارت ہی نہیں بلکہ پورے بلوچستان میں امن کی جانب ایک نمایاں قدم ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ ریاستی ادارے چوکنا بھی ہیں اور ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار بھی۔