27ویں آئینی ترمیم: سپریم جوڈیشل کونسل اور کمیشن کی تشکیل نو

27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل اور جوڈیشل کمیشن کی نئی تشکیل
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

27ویں آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کونسل و کمیشن کی نئی تشکیل کا اعلان

27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی

پاکستان میں عدالتی نظام سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل، جوڈیشل کمیشن اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی باقاعدہ تشکیل نو کر دی گئی ہے۔ یہ ترمیم حالیہ مہینوں میں سیاسی و عدالتی سطح پر ہونے والی مشاورت کے نتیجے میں متفقہ طور پر منظور کی گئی، جس کے بعد اعلیٰ عدلیہ میں نئی نامزدگیوں اور ذمہ داریوں کا تعین ہونا ضروری تھا۔

پارلیمنٹ میں 27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت، آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق۔

سپریم کورٹ نے باقاعدہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے نئے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا، جس کے مطابق تمام تعیناتیاں دونوں چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے کی گئی ہیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل — نئی قیادت اور اراکین

اعلامیے کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی ازسرِنو تشکیل کی گئی ہے۔
کونسل کی تشکیل کچھ یوں ہے:

  • چیف جسٹس یحییٰ آفریدی — سربراہ
  • چیف جسٹس امین الدین خان — سینئر ممبر
  • جسٹس منیب اختر — رکن
  • جسٹس حسن رضوی — رکن
  • جسٹس جمال خان مندوخیل — نیا رکن

جسٹس جمال مندوخیل کی نامزدگی دونوں چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے کی گئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ترمیم کے بعد عدالتی معاملات میں مشاورت اور توازن کا نظام مضبوط کیا گیا ہے۔

جوڈیشل کمیشن — نئی نامزدگیاں اور حکومتی اراکین

27ویں آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو میں بھی بڑی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ نئے کمیشن کی فہرست درج ذیل ہے:

  • چیف جسٹس یحیی آفریدی — سربراہ
  • چیف جسٹس امین خان — رکن
  • جسٹس منیب اختر — رکن
  • جسٹس حسن رضوی — رکن
  • جسٹس عامر فاروق — نئے ممبر

اس کے علاوہ حکومتی نمائندگان کی شمولیت بھی برقرار رکھی گئی:

  • وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ
  • اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان

علاوہ ازیں:

  • حکومت اور اپوزیشن کے دو دو ممبران پارلیمان
  • پاکستان بار کونسل کا نامزد وکیل
  • اسپیکر قومی اسمبلی کی نامزد کردہ خاتون ممبر

یہ مکمل ڈھانچہ آئینی ترمیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ میں شفافیت اور نمائندگی کے نئے اصولوں کو ظاہر کرتا ہے

پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی — نئے اختیارات کے ساتھ

سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی بھی تشکیل نو کی گئی ہے، جہاں:

  • جسٹس جمال خان مندوخیل — نئے ممبر نامزد
    یہ کمیٹی سپریم کورٹ کے اندر کیسز کی تقسیم، بینچز کی تشکیل اور عدالتی عمل کے دیگر انتظامی امور کو نئے آئینی فریم ورک کے مطابق چلاتی ہے۔

ترمیم کے اثرات — عدلیہ میں توازن، شفافیت اور مشاورت

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم گزشتہ کئی برسوں سے جاری عدالتی اثر و رسوخ، بنچ تشکیل اور ججز کی نامزدگی کے نظام سے متعلق تنقید کے بعد ایک بڑا قدم ہے۔ ترمیم نے:

  • عدالتی نظام میں مشاورت کا عمل مضبوط کیا
  • ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں توازن پیدا کیا
  • جوڈیشل کونسل و کمیشن کے کردار کو واضح کیا
  • ججز کی تعیناتی کے اصولوں کو زیادہ شفاف بنایا

ترمیم کے بعد کی جانے والی نئی تشکیل سے اندازہ ہوتا ہے کہ ریاست عدلیہ کے ادارہ جاتی فیصلوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا چاہتی ہے۔

نیا عدالتی فریم ورک نافذ العمل

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ 27ویں آئینی ترمیم پاکستان کے عدالتی نظام میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل، جوڈیشل کمیشن اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی نئی تشکیل آنے والے برسوں میں عدالتی فیصلوں، ججز کی تعیناتی اور عدالتی شفافیت پر براہِ راست اثر ڈالے گی۔

یہ تبدیلیاں مستقبل میں عدالتی نظام کو زیادہ مؤثر، ذمہ دار اور مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

آزاد کشمیر: وزیراعظم انوارالحق کے خلاف عدم اعتماد کامیاب، فیصل ممتاز راٹھور نئے وزیراعظم منتخب

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]