اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) — وفاقی دارالحکومت کے علاقے جی الیون (G-11) میں واقع جوڈیشل کمپلیکس (کچہری) کے مرکزی گیٹ کے باہر آج صبح ایک خوفناک دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ خودکش دھماکہ تھا، تاہم حکام نے تحقیقات مکمل ہونے تک حتمی بیان دینے سے گریز کیا ہے۔
واقعے کی تفصیل
پولیس کے مطابق دھماکہ صبح تقریباً 10 بج کر 25 منٹ پر ہوا جب عدالتی عملہ اور شہری روزمرہ کی کارروائیوں کے لیے کچہری کی جانب جا رہے تھے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ آس پاس کھڑی کئی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں تباہ ہو گئیں۔
امدادی کارروائیاں
ریسکیو 1122 اور پولیس اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور زخمیوں کو پمز (PIMS) اور پولی کلینک اسپتال منتقل کیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق کچھ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اور تحقیقات
دھماکے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا۔
پولیس کے بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوعہ سے بارودی مواد کے شواہد حاصل کر لیے ہیں۔
سرکاری موقف
وزیرِ داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ
“یہ بزدلانہ کارروائی انصاف کے اداروں کو خوفزدہ کرنے کی ناکام کوشش ہے، مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔”
عوامی ردعمل
شہریوں نے سوشل میڈیا پر اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ دارالحکومت جیسے حساس علاقے میں اس قدر بڑا دھماکہ کیسے ممکن ہوا۔
پس منظر
گزشتہ چند مہینوں سے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں۔ تاہم اسلام آباد میں اس نوعیت کا واقعہ کئی ماہ بعد پیش آیا ہے۔
3 Responses