وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلوے پر اجلاس، نظام کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے اقدامات پر بریفنگ

شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلوے پر اجلاس
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلوے پر اجلاس، نظام کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے اقدامات پر بریفنگ

اسلام آباد (رئیس الاخبار) :— وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان ریلوے کے امور پر اہم اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں ریلوے کی بحالی، اپ گریڈیشن اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلوے پر اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کسی بھی ملک کی معیشت اور مواصلاتی ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے وزیرِ ریلوے حنیف عباسی اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریلوے کے نظام کی بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات قابلِ تعریف ہیں۔

بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ علاقائی روابط اور بین الاقوامی ٹرین لنکس کے منصوبوں کے لیے عالمی معیار کے قانونی اور معاشی ماہرین کی خدمات فوری طور پر حاصل کی جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے کی جائیداد اور زمین سے متعلق معاملات میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل اپنایا جائے تاکہ محکمے کی آمدن میں اضافہ ہو اور شفافیت بھی یقینی بنائی جاسکے۔

ریلوے کی ڈیجیٹائزیشن، 56 ٹرینیں آن لائن سسٹم پر منتقل

شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلوے پر اجلاس کو بتایا گیا کہ ریلوے کی ڈیجیٹائزیشن کے لیے "رابطہ” کے 7 ڈیجیٹل پورٹلز فعال ہو چکے ہیں جن کے ذریعے 56 ٹرینیں سسٹم پر منتقل کی جاچکی ہیں جبکہ 54 ریلوے اسٹیشن بھی ڈیجیٹائز کیے جا چکے ہیں۔

کراچی، لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد کے ریلوے اسٹیشنوں پر مفت وائی فائی فراہم کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید 48 اسٹیشنوں پر 31 دسمبر 2025 تک مفت وائی فائی کی سہولت فراہم کر دی جائے گی۔

فریٹ آن لائن بکنگ، ڈیجیٹل ویئنگ برج کا آغاز

شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلوے پر اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ فریٹ آن لائن بکنگ سسٹم متعارف کر دیا گیا ہے، جبکہ کراچی سٹی اسٹیشن پر ڈیجیٹل ویئنگ برج کا پائلٹ پراجیکٹ شروع کردیا گیا ہے۔ اگلے مرحلے میں یہ سہولت پپری، کراچی کینٹ، پورٹ قاسم، لاہور اور راولپنڈی اسٹیشنوں تک توسیع دی جائے گی۔

AI کیمرے، اے ٹی ایمز، صفائی کا نیا نظام

مزید بتایا گیا کہ راولپنڈی ریلوے اسٹیشن میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے 148 سرویلنس کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں۔
ریلوے اسٹیشنوں پر اے ٹی ایم مشینوں کی تنصیب جاری ہے جبکہ صفائی ستھرائی کے بہتر نظام کے لیے آؤٹ سورسنگ کی گئی ہے۔

بڑے اسٹیشنوں پر مسافروں کے لیے اعلیٰ معیار کی نئی انتظار گاہیں بھی تعمیر کر دی گئی ہیں۔ کھانے پینے کی اشیا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے چاروں صوبوں کی فوڈ اتھارٹیز کو رسائی دے دی گئی ہے۔

ٹرینوں اور وینز کی آؤٹ سورسنگ، 8.5 ارب روپے اضافی ریونیو متوقع

شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلوے پر اجلاس کو بتایا گیا کہ 4 ٹرینوں کو آؤٹ سورس کیا جا چکا ہے جبکہ مزید 11 ٹرینوں کو جلد آؤٹ سورس کیا جائے گا، جس کے لیے اشتہار جاری کیا جا چکا ہے۔
اس آؤٹ سورسنگ سے 8.5 ارب روپے اور 40 لگیج و بریک وینز سے 820 ملین روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے۔

2 کارگو ایکسپریس ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ بھی جاری ہے جس سے 6.3 ارب روپے اضافی آمدن کا امکان ہے۔
اسی طرح ریلوے اسپتال، کالجز، اسکول، ریسٹ ہاؤسز اور ڈرائی پورٹس کی آؤٹ سورسنگ پر بھی تیزی سے پیشرفت ہو رہی ہے۔

155 ریلوے اسٹیشن شمسی توانائی پر منتقل

شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلوے پر اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 155 ریلوے اسٹیشنوں کو شمسی توانائی پر منتقل کر دیا گیا ہے، جس سے توانائی کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔

پی آئی اے ملازم غائب، کینیڈا سے پرواز بغیر عملے کے واپس
پی آئی اے کا ایک اور فلائٹ پرسر کینیڈا میں مبینہ طور پر لاپتا ہو گیا ہے۔

ML-1، ML-3 اور علاقائی کنیکٹیویٹی منصوبے

حکام نے بتایا کہ ML-1 کے کراچی–کوٹری سیکشن اور ML-3 کی اپ گریڈیشن کے لیے جامع پلان تشکیل دیا جا رہا ہے۔
تھر ریل کنیکٹیویٹی منصوبے کے لیے سندھ حکومت کے ساتھ پیش رفت جاری ہے۔

اسلام آباد–تہران–استنبول ٹرین کا جلد آغاز ہوگا جبکہ قازقستان–ازبکستان–افغانستان–پاکستان ریلوے منصوبے پر بھی ابتدائی کام شروع ہو چکا ہے۔

اجلاس میں اعلیٰ حکومتی شخصیات کی شرکت

شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلوے پر اجلاس میں وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ اور متعلقہ اعلیٰ حکومتی و سرکاری حکام نے شرکت کی۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]