سینیٹ اجلاس میں عمران خان کی صحت پر بحث، ملاقات نہ کرانے پر پی ٹی آئی کا شدید احتجاج
پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیرِصدارت ہونے والا سینیٹ اجلاس آج ایک بار پھر شدید ہنگامہ آرائی، احتجاج اور شور شرابے کا مرکز بنا رہا۔ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان نے بانی پی ٹی آئی کی صحت، ان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے حوالے سے اپنی تشویش کا بھرپور اظہار کیا۔ پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے بارہا ڈائس بجایا، ’’بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کراؤ‘‘ کے نعرے لگائے اور حکومتی بنچوں سے وضاحت کا مطالبہ کرتے رہے۔
پی ٹی آئی کا احتجاج اور حکومت سے مطالبات
اجلاس کے آغاز سے ہی پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے واضح کر دیا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی کی صحت کے بارے میں تسلی بخش جواب نہیں دیا جاتا اور ملاقات کی صورتحال واضح نہیں ہوتی، ایوان میں کارروائی چلنے نہیں دی جائے گی۔ سینیٹر علی ظفر نے اپنی تقریر میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے جو خبریں گردش کر رہی ہیں، وہ تشویشناک ہیں اور اس بارے میں حکومتی مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک وفاقی وزراء اس معاملے پر وضاحت نہ دیں، اجلاس آگے نہیں بڑھ سکتا۔
اس موقع پر چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے پی ٹی آئی کے ارکان کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے پر قومی اسمبلی کے اسپیکر سے بات چیت کر چکے ہیں اور ملاقات کے لیے وقت بھی طے کر لیا گیا ہے۔ چیئرمین کے مطابق وہ ذاتی طور پر اس مسئلے پر بات کریں گے تاکہ ملاقات اور صحت سے متعلق امور کا کوئی قابل قبول حل نکالا جا سکے۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کی وضاحت
پی ٹی آئی کے شدید احتجاج کے دوران جب حکومتی موقف جاننے کا مطالبہ کیا گیا تو وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایوان میں وضاحت پیش کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق جو خبریں بھارتی میڈیا اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زیر گردش ہیں، وہ بے بنیاد، گمراہ کن اور پروپیگنڈا پر مبنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کسی قسم کی غلط یا گمراہ کن معلومات کو درست نہیں سمجھتی اور بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔
طارق فضل چوہدری نے یہ بھی کہا کہ ملاقات کے حوالے سے وزیر داخلہ سے بات چیت کی جائے گی تاکہ اس معاملے کو قانونی اور انتظامی دائرے میں رہتے ہوئے بہتر طریقے سے حل کیا جا سکے۔
سوشل میڈیا پر خبروں کا معاملہ
پی ٹی آئی کے ارکان نے ایوان میں بارہا یہ مؤقف پیش کیا کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق گردش کرنے والی تشویشناک خبروں نے عوام میں بے چینی پیدا کی ہے، اور اگر حکومت کے پاس حقائق ہیں تو انہیں ایوان میں پیش کرنا چاہیے۔ حکومتی وزیر نے مؤقف اپنایا کہ ان خبروں میں کسی قسم کی صداقت نہیں اور ایسے پروپیگنڈے کی کوئی بنیاد نہیں۔
تاہم حکومتی وضاحت کے باوجود پی ٹی آئی کے احتجاج میں کمی نہ آئی اور ارکان مسلسل ڈائس بجا کر اپنی آواز اٹھاتے رہے۔
کارروائی میں تعطل، کورم کی نشاندہی اور وقفہ
ایوان میں شور شرابے کے دوران کورم کی نشاندہی بھی کر دی گئی، اور جب گنتی کے دوران کورم پورا نہ پایا گیا تو اجلاس کو آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ وقفے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو پی ٹی آئی کا احتجاج بدستور جاری رہا۔ تاہم حکومتی بنچوں نے قانون سازی کا عمل جاری رکھتے ہوئے متعدد اہم بل پیش کیے۔
انکم ٹیکس ترمیمی بل 2025
ایوان میں روزمرہ کارروائی کے درمیان انکم ٹیکس ترمیمی بل 2025 کی نقل پیش کی گئی۔ اس بل کو باقاعدہ طور پر پڑھ کر متعلقہ قائمہ خزانہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا تاکہ اسے غور و خوض کے بعد منظوری کے لیے دوبارہ ایوان میں پیش کیا جا سکے۔ احتجاج کے باوجود چیئرمین سینیٹ نے قواعد و ضوابط کے مطابق قانون سازی کے عمل کو جاری رکھا۔
نجکاری کمیشن ترمیمی بل 2025
اس کے علاوہ نجکاری کمیشن ترمیمی بل 2025 بھی ایوان میں پیش کیا گیا۔ اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا تاکہ بل کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نجکاری کمیشن سے متعلق ترامیم معیشت اور حکومتی پالیسیوں کے تسلسل کے لیے اہم ہیں۔
صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کا بل
ایوان میں ایک اور اہم پیشرفت صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ سے متعلق بل کا معاملہ تھا۔ چونکہ یہ بل سینیٹ سے تو منظور ہو چکا تھا مگر قومی اسمبلی نے اسے منظور نہیں کیا، اس لیے اسے مشترکہ اجلاس میں بھیجنے کی تحریک پیش کی گئی۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے تحریک پیش کی، جسے ایوان نے منظوری دے دی۔ اب یہ بل مشترکہ اجلاس میں زیر بحث آئے گا جہاں دونوں ایوانوں کی منظوری درکار ہو گی۔
سیاسی ماحول اور سینیٹ کا مستقبل کا اجلاس
آج کا سینیٹ اجلاس عمومی کارروائی کے بجائے سیاسی گرما گرمی، سوالات اور احتجاج سے زیادہ متاثر نظر آیا۔ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ملاقات کے معاملے نے ایوان کی کارروائی کو خاصا متاثر کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے بارہا کوشش کی کہ ایوان کو پرامن طریقے سے چلایا جائے اور قانون سازی اور امور حکومت کو بدستور جاری رکھا جائے۔
آخر میں چیئرمین سینیٹ نے آئندہ اجلاس پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ اجلاس میں بھی پی ٹی آئی اس معاملے کو ایوان میں اٹھائے گی، جب کہ حکومت کی جانب سے مزید وضاحت یا پیش رفت سامنے آنے کے امکانات موجود ہیں۔ ایوان کے اندر پیدا ہونے والی اس سیاسی کشیدگی کا اثر قانون سازی کی رفتار اور پارلیمانی ماحول پر پڑ سکتا ہے، جس پر آئندہ اجلاسوں میں مزید روشنی پڑے گی


One Response