اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 15 فروری کو ہوں گے، الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کر دیا
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بالآخر اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کی تاریخ اور مکمل انتخابی شیڈول جاری کر دیا ہے، جس کا شہریوں، سیاسی جماعتوں اور مقامی حکومت کے نظام میں دلچسپی رکھنے والے تمام طبقات کو طویل عرصے سے انتظار تھا۔ نئے اعلان کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات 15 فروری کو منعقد ہوں گے، جب کہ پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک بلا تعطل جاری رہے گا۔ یہ اعلان نہ صرف سیاسی سرگرمیوں میں نئی روح پھونک رہا ہے بلکہ یہ اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کی بحالی کی طرف ایک اہم اور دیرینہ قدم بھی ہے۔
کاغذاتِ نامزدگی کا شیڈول اور ابتدائی مرحلے
الیکشن کمیشن کے جاری کردہ تفصیلی شیڈول کے مطابق انتخابی عمل کا پہلا باقاعدہ قدم کاغذاتِ نامزدگی کی مرحلہ وار تکمیل ہے۔ اس سلسلے میں:
ریٹرننگ آفیسرز (ROs) کی جانب سے پبلک نوٹس 19 دسمبر کو آویزاں کیا جائے گا۔
امیدواروں کے لیے 22 دسمبر سے 27 دسمبر تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی مہلت مقرر کی گئی ہے۔
یہ ابتدائی مرحلہ تمام امیدواروں کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اسی دوران وہ اپنے کاغذات جمع کرانے کے ساتھ ساتھ اپنی انتخابی مہم کے بنیادی لائحہ عمل کو بھی ترتیب دیتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے لیے بھی یہی وقت ہوتا ہے کہ وہ اپنے مضبوط، مقبول اور فعال امیدواروں کے انتخاب کا آخری فیصلہ کریں۔
جانچ پڑتال اور قانونی مراحل
کاغذاتِ نامزدگی جمع ہونے کے بعد اگلا مرحلہ ان کی قانونی اور تکنیکی جانچ پڑتال کا ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق:
جانچ پڑتال 30 دسمبر سے 3 جنوری 2026 تک جاری رہے گی۔
اس کے بعد اگر کسی امیدوار یا جماعت کو جانچ پڑتال کے نتائج پر اعتراض ہو تو وہ 5 جنوری سے 8 جنوری 2026 کے دوران اپیلیں دائر کر سکتے ہیں۔
ان اپیلوں کا حتمی فیصلہ 9 جنوری سے 13 جنوری تک متعلقہ ٹربیونلز کریں گے۔
یہ مرحلہ انتخابی عمل کی شفافیت اور قانونی حیثیت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اسی سے یہ طے ہوتا ہے کہ کون امیدوار انتخابی ضابطوں اور آئینی تقاضوں پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ یہ فیصلہ سازی مقامی ٹربیونلز کی ذمہ داری ہے جو تمام اعتراضات اور اپیلوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔
کاغذات کی واپسی اور امیدواروں کی حتمی فہرست
انتخابی عمل کا ایک اور اہم مرحلہ کاغذاتِ نامزدگی کی واپسی ہے، جس کے ذریعے وہ امیدوار جو کسی بھی وجہ سے انتخابی دوڑ سے دستبردار ہونا چاہیں، خود کو اس عمل سے الگ کر سکتے ہیں۔ شیڈول کے مطابق:
کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 15 جنوری 2026 مقرر کی گئی ہے۔
اس تاریخ کے بعد امیدواروں کی حتمی فہرست مرتب کی جاتی ہے، جسے 16 جنوری کو عام لوگوں اور میڈیا کے لیے آویزاں کر دیا جائے گا۔ اسی روز امیدواروں کو ان کے انتخابی نشانات بھی الاٹ کیے جائیں گے، جو انتخابی مہم کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ انہی نشانات کے ذریعے ووٹر اپنے امیدواروں کی شناخت کرتے ہیں۔
الیکشن مہم اور پولنگ کے انتظامات
حتمی فہرست کے جاری ہونے کے ساتھ ہی انتخابی مہم باقاعدہ طور پر اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ امیدوار گھر گھر رابطہ مہم، جلسے، کارنر میٹنگز، اور منشور کی تشہیر کے ذریعے ووٹرز سے براہ راست رابطہ بڑھاتے ہیں۔ اس دوران الیکشن کمیشن انتخابی ضابطہ اخلاق کی نگرانی سختی سے کرتا ہے تاکہ جلسوں میں شور شرابہ، سرکاری وسائل کے استعمال، انتخابی وعدوں کی نوعیت اور اخراجات پر مکمل لاگو رہ سکے۔
پولنگ کا بڑا دن 15 فروری ہے، جب اسلام آباد کے شہری اپنی مقامی حکومت کے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔ پولنگ اسٹیشنز میں ووٹروں کے لیے ضروری سہولیات، سیکیورٹی انتظامات، اور پولنگ اسٹاف کی ذمہ داریاں پہلے ہی سے طے کی جاتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق تمام پولنگ اسٹیشن صبح 8 بجے کھلیں گے اور شام 4 بجے تک ووٹنگ جاری رہے گی۔
نتائج مرتب کرنے کا عمل
پولنگ مکمل ہونے کے بعد نتائج مرتب کرنے کا عمل شروع ہوتا ہے، جو الیکشن کمیشن کے مطابق:
16 فروری سے 19 فروری تک جاری رہے گا۔
اسی دوران مختلف پولنگ اسٹیشنز سے موصول ہونے والے نتائج کو یکجا کیا جاتا ہے، فارم 45 اور فارم 47 کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے، اور حتمی نتائج مرتب کر کے شائع کیے جاتے ہیں۔
بلدیاتی انتخابات کی اہمیت
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہ صرف جمہوری عمل کا ایک لازمی حصہ ہیں بلکہ یہ شہریوں کو مقامی سطح پر براہ راست نمائندگی فراہم کرنے کا واحد مؤثر ذریعہ بھی ہیں۔ بلدیاتی نمائندے علاقے کی ترقیاتی اسکیمیں، شہری سہولیات، صفائی ستھرائی، سٹریٹ لائٹس، پارکس، واٹر سپلائی اور دیگر بنیادی مسائل کی براہ راست نگرانی کرتے ہیں۔ یوں یہ انتخابات وفاقی دارالحکومت میں بہتر انتظامی ڈھانچے اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔
سیاسی جماعتوں کی تیاری اور عوامی توقعات
چونکہ اسلام آباد کی آبادی متنوع ہے اور یہاں مختلف طبقات آباد ہیں، اس لیے بلدیاتی انتخابات ہمیشہ سیاسی جماعتوں کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوتے ہیں۔ شہری اس امید پر ووٹ ڈالتے ہیں کہ منتخب نمائندے ان کے روزمرہ کے مسائل کو بہتر طور پر حل کریں گے اور انہیں ایک جدید، صاف ستھرا اور خوبصورت شہر فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
سیاسی جماعتوں نے بھی اس اعلان کے بعد اپنی سرگرمیوں کو تیز کر دیا ہے۔ امیدواروں کی فہرستیں تیار ہو رہی ہیں، مشاورتی اجلاسوں کا سلسلہ جاری ہے اور عوامی رابطہ مہم کی حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے۔

