فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تاریخی خطاب: ریاستِ طیبہ، پاکستان اور تحفظِ حرمین پر واضح مؤقف

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خطاب کرتے ہوئے قومی علماء مشائخ کانفرنس کی تقریب
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا قومی علماء مشائخ کانفرنس سے خطاب—حرمین کے تحفظ سے دہشتگردی تک اہم نکات

قومی علماء و مشائخ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے نظریاتی تشخص، اس کی روحانی اساس، اور ریاستِ طیبہ کے ساتھ تعلق کو نہایت جامع پیرائے میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیادیں کسی سیاسی یا جغرافیائی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ اسلامی تہذیب، ایمان اور عقیدے کے جذبے سے اُبھری تھیں، اور اسی وجہ سے پاکستان کا ریاستِ طیبہ کے ساتھ ایک گہرا اور تاریخی تعلق ہے۔

فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں اس دفاعی معاہدے کا بھی حوالہ دیا جسے انہوں نے دونوں ریاستوں کے درمیان “تاریخی اور غیر معمولی اہمیت کا حامل” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مسلم ممالک میں سے خصوصاً پاکستان کو—even اُس کے محدود وسائل اور مشکلات کے باوجود—یہ شرف عطا کیا کہ وہ محافظینِ حرمین کے طور پر خدمات انجام دے سکے۔ یہ اعزاز کسی نعمت سے کم نہیں، بلکہ پاکستان کے نظریاتی کردار اور اسلامی دنیا میں اس کی خصوصی حیثیت کا اعتراف ہے۔

علم، قلم اور محنت — قوموں کے عروج کا اصل ستون

خطاب کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے علمی زوال کے اثرات پر خصوصی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ جب بھی کوئی قوم علم اور قلم سے منہ موڑ لیتی ہے تو نتیجتاً انتشار، بدامنی اور فساد الارض جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا:

“جس قوم نے علم اور قلم کو چھوڑا، وہاں انتشار نے جگہ لی۔ عزت اور طاقت کبھی تقسیم، انتشار یا شور و غوغا سے نہیں ملتی، بلکہ یہ محنت، علم اور کردار سے حاصل ہوتی ہے۔”

انہوں نے اس حقیقت پر زور دیا کہ مسلم تہذیب کی بنیاد علم، عدل اور اخلاقیات پر تھی، اور جب تک یہ اوصاف مضبوط رہے، امت کا ہر میدان میں عروج برقرار رہا۔ آج بھی پاکستان اور امتِ مسلمہ کو اسی راستے کی طرف لوٹنا ہوگا تاکہ حقیقی استحکام، ترقی اور وحدت قائم کی جا سکے۔

دہشت گردی — ریاستی مؤقف اور دشمن کے عزائم

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دہشت گردی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کا حامی یا پھیلانے والا ملک نہیں—بلکہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والا ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف عظیم قربانیاں دی ہیں، اور اس جنگ میں ہزاروں قیمتی جانیں قربان ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق:

“دہشت گردی پاکستان کا نہیں ہندوستان کا وطیرہ ہے۔ ہم دشمن کا مقابلہ چھپ کر نہیں، للکار کر کرتے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ دشمن قوتیں پاکستان میں انتشار اور بدامنی پیدا کرنا چاہتی ہیں، لیکن ریاست، عوام اور مذہبی قیادت مل کر اس منفی سوچ کو ناکام بنائیں گے۔ پاکستان نے ہمیشہ دفاعی سوچ رکھی ہے، لیکن جب بھی اس پر حملہ ہوا، اس نے پوری قوت اور عزم سے جواب دیا ہے۔

اسلامی ریاست میں جہاد کا اختیار — شرعی و آئینی اصول کی وضاحت

کانفرنس کے دوران فیلڈ مارشل نے جہاد کے تصور کے حوالے سے بھی ایک نہایت واضح اور ذمہ دارانہ مؤقف بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ:

“اسلامی ریاست میں ریاست کے علاوہ کوئی جہاد کا حکم نہیں دے سکتا۔”

یہ بیان مذہبی حوالے سے بھی اہم ہے اور ریاستی تناظر میں بھی واضح کرتا ہے کہ انتشار، انارکی یا نجی گروہوں کے ذریعے مسلح کارروائی کا کوئی جواز نہیں۔ جہاد ایک منظم، شرعی اور ریاستی ادارہ ہے، جس کا اعلان صرف ریاست خود کرتی ہے، نہ کہ کوئی گروہ یا فرد۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی معرکۂ حق کا وقت آیا، اللہ کی مدد شاملِ حال رہی اور پاکستان نے کامیابی حاصل کی۔

علماء کی ذمہ داریاں — اتحاد، برداشت اور فکری وسعت کا پیغام

اپنے خطاب کے آخر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے علماء و مشائخ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ علماء ہر دور میں قوم کی رہنمائی کا اہم فریضہ سرانجام دیتے آئے ہیں۔ پاکستان جیسے نظریاتی ملک میں ان کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے۔ انہوں نے علماء سے کہا کہ وہ قوم کو متحد رکھیں، انتشار انگیز بیانیوں کا سدباب کریں، اور عوام کی فکری وسعت میں اضافہ کریں۔

ان کے مطابق:

“علماء قوم کو متحد رکھیں اور قوم کی نظر میں وسعت پیدا کریں۔”

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مساجد، مدارس اور مذہبی قیادت کے پاس اخلاقی و سماجی اثر و رسوخ ہے، اور اگر یہ طبقہ مثبت سوچ، برداشت اور اتحاد کا پیغام عام کرے تو پاکستان اندرونی طور پر بہت مضبوط ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع میں مذہبی قیادت نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے، اور مستقبل میں بھی اس کردار کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

ریاستِ مدینہ کا کردار — پاکستان کے لیے ایک روحانی اور اخلاقی ماڈل

اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ریاستِ طیبہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی مثال محض ایک جغرافیائی اکائی کی نہیں بلکہ ایک نظریاتی ریاست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستِ مدینہ کا ماڈل عدل، علم، مساوات اور برداشت پر قائم تھا، اور آج بھی یہ اصول کسی بھی قوم کی ترقی اور وقار کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

پاکستان کی ریاستی پالیسی اور اس کے مستقبل کے لیے یہ اصول بطور سمت نما رہ سکتے ہیں، بشرطیکہ قوم اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر مشترکہ اہداف کے لیے آگے بڑھے۔

اتحاد و استحکام کا پیغام

قومی علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستانی قوم، ریاستی اداروں اور مذہبی قیادت کو ایک متفقہ پیغام دیا—کہ پاکستان ایک نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا اور اسی نظریے کے ذریعے مضبوط بھی ہوگا۔ علم، کردار، محنت اور قومی وحدت وہ ستون ہیں جو ملکوں کو مضبوط کرتے ہیں، اور یہی اصول پاکستان کی کامیابی کا ضامن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم علم کو اپنائیں، انتشار کو ترک کریں، اور دشمن کے پروپیگنڈے کا ڈٹ کر مقابلہ کریں تو پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک باوقار اسلامی ملک کے طور پر اپنا کردار مزید مضبوط کر سکتا ہے۔

آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو سے ملاقات
اسلام آباد میں انڈونیشیا کے صدر اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات
جی ایچ کیو میں خطاب کرتے ہوئے عاصم منیر کا افغانستان اور بھارت کو دوٹوک پیغام
سی ڈی ایف عاصم منیر کی افغانستان اور بھارت کے حوالے سے سخت وارننگ

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]