ایف بی آر نے اسلام آباد میں پراپرٹی کے نئے ویلیوایشن ریٹس واپس لے لیے، نوٹیفکیشن معطل
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اسلام آباد میں جائیداد کی نئی ویلیوایشن ریٹس سے متعلق جاری کیا گیا نوٹیفکیشن واپس لیتے ہوئے اسے باضابطہ طور پر معطل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ تجارتی تنظیموں، رئیل اسٹیٹ سے وابستہ حلقوں اور تاجروں کی جانب سے شدید تحفظات سامنے آنے کے بعد کیا گیا۔ ایف بی آر کے ترجمان کے مطابق نئی ویلیوایشن ٹیبل پر اسٹیک ہولڈرز کے اعتراضات کو سنجیدگی سے لیا گیا، جس کے نتیجے میں نوٹیفکیشن کو عارضی طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایف بی آر نے 8 دسمبر 2025 کو اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز اور علاقوں کے لیے پراپرٹی کی نئی ویلیوایشن ٹیبل جاری کی تھی۔ اس ٹیبل کے تحت بعض علاقوں میں جائیداد کی سرکاری قیمتوں میں ڈیڑھ سو سے دو سو فیصد تک اضافہ کیا گیا تھا، جبکہ مجموعی طور پر بعض کیسز میں ویلیوایشن ریٹس میں سترہ سو فیصد تک غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس اچانک اور بھاری اضافے نے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی اور پراپرٹی کی خرید و فروخت سے وابستہ تمام طبقات میں بے چینی پھیل گئی تھی۔
تجارتی تنظیموں اور تاجروں کا مؤقف تھا کہ پراپرٹی ویلیوایشن ریٹس میں اس قدر زیادہ اضافے سے جائیداد کی خرید و فروخت نہ صرف مہنگی ہو جائے گی بلکہ پہلے سے سست روی کا شکار رئیل اسٹیٹ سیکٹر مزید جمود کا شکار ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری ویلیوایشن ریٹس پر اسٹامپ ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور دیگر محصولات عائد کیے جاتے ہیں، جس کے باعث خریدار اور فروخت کنندہ دونوں پر مالی بوجھ میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔
تاجروں کے مطابق اگر نئی ویلیوایشن ٹیبل نافذ العمل رہتی تو متوسط طبقے کے لیے گھر یا پلاٹ خریدنا مزید مشکل ہو جاتا، جبکہ سرمایہ کار بھی پراپرٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری سے گریز کرنے پر مجبور ہو جاتے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس اقدام سے جائیداد کی رجسٹریشن میں کمی آتی اور غیر رسمی لین دین میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو جاتا، جس سے حکومت کے ریونیو اہداف بھی متاثر ہو سکتے تھے۔
ایف بی آر کے ترجمان نے اپنے بیان میں وضاحت کی کہ ادارے کا مقصد کسی بھی صورت میں کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ٹیکس نظام کو شفاف اور معیشت کو دستاویزی شکل دینا ہے۔ ترجمان کے مطابق تجارتی تنظیموں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نئی ویلیوایشن ٹیبل کو 31 جنوری 2026 تک یا اس سے قبل درست شدہ اور نظرثانی شدہ نئی ٹیبل کے اجراء تک معطل رکھا جائے گا۔ اس دوران اسلام آباد میں جائیداد کے لین دین کے لیے پرانی ویلیوایشن ٹیبل ہی نافذ العمل رہے گی۔
ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کا یہ فیصلہ وقتی طور پر رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو بڑا ریلیف فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق پراپرٹی سیکٹر کا تعلق درجنوں دیگر صنعتوں سے جڑا ہوتا ہے، جن میں تعمیرات، سیمنٹ، اسٹیل، لکڑی، الیکٹریکل اور لیبر شامل ہیں۔ اس شعبے میں کسی بھی قسم کی سست روی براہ راست روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے، اس لیے ویلیوایشن ریٹس جیسے حساس معاملات میں توازن اور مرحلہ وار اصلاحات ناگزیر ہوتی ہیں۔
دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پراپرٹی کی سرکاری ویلیوایشن کو مارکیٹ ریٹس کے قریب لانا ایک ضروری قدم ہے، کیونکہ اس سے ٹیکس نیٹ میں وسعت آتی ہے اور کالے دھن کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق مسئلہ طریقہ کار اور اضافے کی شدت کا ہے۔ اگر ویلیوایشن میں بتدریج اور مشاورت کے ساتھ اضافہ کیا جائے تو مارکیٹ اس کو قبول کر لیتی ہے، لیکن اچانک اور غیر متوازن اضافہ شدید ردعمل کو جنم دیتا ہے، جیسا کہ حالیہ معاملے میں دیکھنے میں آیا۔
اسلام آباد کے رئیل اسٹیٹ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ نئی ویلیوایشن ٹیبل کے اعلان کے بعد پراپرٹی کی خرید و فروخت تقریباً رک سی گئی تھی، کیونکہ خریدار اور فروخت کنندہ دونوں غیر یقینی صورتحال کا شکار تھے۔ اب نوٹیفکیشن کی معطلی کے بعد مارکیٹ میں قدرے اعتماد بحال ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ ایف بی آر آئندہ کیا نظرثانی شدہ ٹیبل متعارف کراتا ہے۔
یہ پیش رفت اس امر کی عکاس ہے کہ پالیسی سازی میں اسٹیک ہولڈرز کی رائے کو نظرانداز کرنا عملی مشکلات کو جنم دے سکتا ہے۔ تاجروں اور کاروباری طبقے کا مطالبہ ہے کہ ایف بی آر آئندہ کسی بھی نئی ویلیوایشن ٹیبل کے اجراء سے قبل متعلقہ تنظیموں، رئیل اسٹیٹ ماہرین اور مارکیٹ کے نمائندوں سے مشاورت کو یقینی بنائے تاکہ ایسے فیصلے سامنے آئیں جو ٹیکس وصولی اور معاشی سرگرمیوں، دونوں کے لیے فائدہ مند ہوں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد میں پراپرٹی کی نئی ویلیوایشن ریٹس کا نوٹیفکیشن معطل ہونا رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ایک اہم ریلیف ہے، تاہم یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ اصل چیلنج ایک ایسی متوازن اور حقیقت پسندانہ ویلیوایشن پالیسی تشکیل دینا ہے جو حکومت کے ریونیو اہداف کو بھی پورا کرے اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ دے۔ آنے والے دنوں میں ایف بی آر کی جانب سے جاری کی جانے والی نظرثانی شدہ ویلیوایشن ٹیبل پر سب کی نظریں مرکوز رہیں گی۔


One Response