تعلیمی اداروں میں منشیات کے خاتمے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے سخت ریمارکس

اسلام آباد ہائیکورٹ منشیات کیس سماعت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسلام آباد ہائیکورٹ میں تعلیمی اداروں سے منشیات کے خاتمے پر سماعت، اداروں سے عملی اقدامات کی رپورٹ طلب

اسلام آباد ہائیکورٹ میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے خلاف دائر کیس کی سماعت جسٹس راجا انعام امین منہاس نے کی، جس میں اسلام آباد پولیس، اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) اور پرائیویٹ اسکول ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کے نمائندگان عدالت میں پیش ہوئے اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تفصیلی رپورٹس جمع کروائیں۔ عدالت نے اس معاملے کو نہایت سنجیدہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ محض کاغذی کارروائیاں یا رسمی میٹنگز کافی نہیں بلکہ عملی نتائج سامنے آنے چاہئیں۔

دورانِ سماعت آئی جی اسلام آباد آفس کے ڈائریکٹر لیگل طاہر کاظم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں آئی جی اسلام آباد کی سربراہی میں اسٹیک ہولڈرز کی دو اہم میٹنگز منعقد کی جا چکی ہیں۔ ان اجلاسوں میں اسلام آباد پولیس، اے این ایف، ضلعی انتظامیہ، تعلیمی اداروں کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ محکموں نے شرکت کی، جن میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے پر غور کیا گیا۔

طاہر کاظم نے بتایا کہ ان میٹنگز میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ اسکولوں اور کالجوں کے اطراف منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید مؤثر بنایا جائے گا، جبکہ تعلیمی اداروں کے اندر آگاہی مہم اور نگرانی کے نظام کو بھی بہتر کیا جائے گا۔ ان کے مطابق، اسلام آباد پولیس نے اس سلسلے میں مختلف علاقوں میں کارروائیاں بھی کی ہیں، تاہم یہ عمل مرحلہ وار جاری ہے۔

اس موقع پر جسٹس راجا انعام امین منہاس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو منشیات کے خاتمے کے لیے خود ایک مؤثر جوائنٹ ٹاسک فورس قائم کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا مقصد یہ ہرگز نہیں تھا کہ ادارے صرف میٹنگز منعقد کر کے اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیں، بلکہ اصل ہدف یہ ہے کہ تمام متعلقہ ادارے ایک پلیٹ فارم پر آ کر عملی اقدامات کریں اور ان کے نتائج واضح طور پر نظر آئیں۔

جسٹس راجا انعام امین منہاس نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم طلبہ قوم کا مستقبل ہیں اور اگر اس مستقبل کو منشیات جیسی لعنت سے محفوظ نہ رکھا گیا تو اس کے نتائج پورے معاشرے کو بھگتنا پڑیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ عدالت اس معاملے پر کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی اور تمام اداروں کو اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

سماعت کے دوران اینٹی نارکوٹکس فورس کے پراسیکیوٹر رانا ذوالفقار نے عدالت کو بتایا کہ اے این ایف کی جانب سے تعلیمی اداروں میں منشیات کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ اسلام آباد کے تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ایک ایک فوکل پرسن تعینات کر دیا گیا ہے، جو منشیات سے متعلق کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر اے این ایف اور متعلقہ اداروں کو دے گا۔

رانا ذوالفقار کے مطابق، اس مقصد کے لیے ہر ماہ باقاعدہ میٹنگز منعقد کی جائیں گی، جن میں صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ اے این ایف اس قومی مہم میں کسی قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہیں کرے گی اور منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔

پرائیویٹ اسکول ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ ان کی جانب سے تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف آگاہی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ پیرا حکام کے مطابق، 9 دسمبر کو 100 نجی اسکولوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں منشیات کے نقصانات، طلبہ میں اس کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

پیرا نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ہر نجی اسکول میں فوکل پرسن پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو اسکول انتظامیہ، والدین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرے گی۔ اس کمیٹی کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ تعلیمی ادارے میں کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری نشاندہی کرے اور بروقت کارروائی کو یقینی بنائے۔

اس موقع پر جسٹس راجا انعام امین منہاس نے پیمراء (پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی) کی جانب سے منشیات کے خاتمے سے متعلق آگاہی مہم کے اشتہارات نشر کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ایسے اشتہارات چلائے جا رہے ہیں، تاہم انہوں نے تاحال کسی چینل پر ایسی کوئی مؤثر مہم نشر ہوتی نہیں دیکھی۔ انہوں نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کا کردار اس حوالے سے نہایت اہم ہے اور پیمراء کو اس ضمن میں اپنی ذمہ داری مزید مؤثر انداز میں ادا کرنی چاہیے۔

عدالت نے منشیات کے خاتمے سے متعلق آگاہی مہم پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے آئندہ سماعت پر پیمراء کے متعلقہ افسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ میڈیا کے ذریعے عوام اور طلبہ میں کس حد تک شعور اجاگر کیا جا رہا ہے۔

سماعت کے دوران ڈائریکٹر لیگل آئی جی آفس طاہر کاظم، اینٹی نارکوٹکس فورس کے پراسیکیوٹر رانا ذوالفقار اور ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ عدالت میں موجود رہے اور عدالتی سوالات کے جوابات دیے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام اداروں کو ہدایت کی کہ وہ منشیات کے خاتمے سے متعلق اپنی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنائیں، عملی نتائج پر مبنی رپورٹس تیار کریں اور آئندہ سماعت پر پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کریں۔ بعد ازاں عدالت نے مزید ہدایات کے ساتھ کیس کی سماعت 27 جنوری تک ملتوی کر دی۔

جسٹس طارق جہانگیری اسلام آباد ہائیکورٹ
جسٹس طارق جہانگیری نے ڈگری تنازع کیس آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس میں اضافہ
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان، انڈیکس میں نمایاں اضافہ
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]