پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں تشویشناک کمی، سٹیٹ بینک نے نئی رپورٹ جاری کر دی

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی عمارت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا گراف
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم گر گیا: رواں مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ کی رپورٹ

پاکستان کی معیشت کے حوالے سے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے تشویشناک اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو ملکی معاشی استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

ملکی مجموعی ذخائر 19.68 ارب ڈالر – پاکستانی معیشت کے لیے اہم پیش رفت

ایف ڈی آئی میں 25 فیصد کمی کا تجزیہ

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، جولائی سے نومبر کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری گزشتہ مالی سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں 25 فیصد کم رہی۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس عرصے میں ملک میں صرف 92 کروڑ 74 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، جبکہ گزشتہ سال یہ حجم 1 ارب 24 کروڑ ڈالر تھا۔ اس طرح مجموعی طور پر سرمایہ کاری میں 31 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔

نومبر 2025 کے اعداد و شمار

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف نومبر 2025 کے مہینے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی مالیت 18 کروڑ ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 16 فیصد کم ہے۔ اس سے قبل اکتوبر میں بھی یہی صورتحال تھی جہاں سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 17 کروڑ 98 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کار تاحال پاکستانی مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر پیسہ لگانے سے ہچکچا رہے ہیں۔

چین: سب سے بڑا سرمایہ کار

رپورٹ کے مطابق، نومبر کے مہینے میں پاکستان میں سب سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری چین کی جانب سے کی گئی۔ چین نے مختلف منصوبوں میں 8 کروڑ 16 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جو سی پیک اور دیگر دو طرفہ معاشی منصوبوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ چین کے علاوہ دیگر ممالک کی دلچسپی میں کمی معاشی ماہرین کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

پاک چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس

شعبہ جاتی سرمایہ کاری کی صورتحال

اگر شعبہ وار جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری پاور سیکٹر (بجلی کے شعبے) میں دیکھی گئی، جس کی مالیت 8 کروڑ 61 لاکھ ڈالر رہی۔ اس کے بعد فنانشل بزنس (مالیاتی امور) کے شعبے کا نمبر آتا ہے جہاں 6 کروڑ 77 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔ ان دو شعبوں کے علاوہ دیگر اہم سیکٹرز جیسے کہ ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کی رفتار سست رہی۔

مجموعی بیرونی سرمایہ کاری کا تقابل

سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر رواں مالی سال کے پانچ ماہ میں کل بیرونی سرمایہ کاری (جس میں پورٹ فولیو انویسٹمنٹ بھی شامل ہے) کی مالیت محض 31 کروڑ 37 لاکھ ڈالر رہی۔ یہ اعداد و شمار اس لیے بھی پریشان کن ہیں کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری ایک ارب 39 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی، انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر

ماہرینِ معیشت کا خیال ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں اس کمی کی بڑی وجوہات عالمی معاشی حالات، شرح سود میں اتار چڑھاؤ اور ملکی سطح پر پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا ہو سکتا ہے۔ اگر حکومت سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو آنے والے مہینوں میں آئی ایم ایف پروگرام اور دیگر اصلاحات کے باعث ان اعداد و شمار میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]