پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی، انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، ڈالر مزید سستا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور کاروباری ہفتے کے آخری روز مارکیٹ نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے، مثبت معاشی اشاریوں اور بہتر مالیاتی توقعات کے باعث اسٹاک مارکیٹ کا بینچ مارک 100 انڈیکس ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
کاروباری ہفتے کے آخری روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آغاز انتہائی مثبت رجحان کے ساتھ ہوا۔ ٹریڈنگ کے پہلے ہی سیشن میں 100 انڈیکس 417 پوائنٹس کے نمایاں اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 72 ہزار 221 پوائنٹس کی تاریخی سطح کو چھو گیا، جو ملکی اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری روز بھی مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی تھی، جہاں کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار 804 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ مسلسل دوسرے روز مثبت رجحان اس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ سرمایہ کار ملکی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے پُرامید دکھائی دے رہے ہیں۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق بینکاری، توانائی، سیمنٹ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نمایاں خریداری دیکھنے میں آئی، جس نے مجموعی انڈیکس کو اوپر کی جانب دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بڑے سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے سرمایہ کاروں کی جانب سے بھی حصص کی خریداری میں اضافہ دیکھا گیا، جس سے مارکیٹ میں کاروباری حجم میں بہتری آئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ تیزی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں جن میں مہنگائی میں بتدریج کمی، شرح سود میں ممکنہ نرمی کی توقعات، آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق مثبت پیش رفت اور روپے کی قدر میں استحکام شامل ہیں۔ ان عوامل نے مجموعی طور پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔
دوسری جانب زرمبادلہ کی مارکیٹ میں بھی مثبت رجحان برقرار ہے۔ امریکی ڈالر کی قیمت میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، جو معیشت کے لیے ایک خوش آئند اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت 6 پیسے کی کمی کے بعد 280 روپے 20 پیسے پر آ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت میں کمی درآمدی دباؤ میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق بہتر توقعات کی عکاس ہے۔ اس کے علاوہ ترسیلاتِ زر میں استحکام اور برآمدات میں بتدریج بہتری بھی روپے کی قدر کو سہارا دے رہی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحانات برقرار رہے تو نہ صرف اسٹاک مارکیٹ میں مزید ریکارڈ بن سکتے ہیں بلکہ روپے کی قدر میں بھی مزید استحکام متوقع ہے۔ تاہم انہوں نے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی معاشی حالات، تیل کی قیمتیں اور جیو پولیٹیکل صورتحال پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے۔
اسٹاک بروکرز کے مطابق مارکیٹ میں اس وقت مثبت ماحول موجود ہے اور سرمایہ کار طویل المدتی سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پالیسیوں میں تسلسل اور معاشی اصلاحات کا عمل جاری رہا تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج خطے کی بہترین مارکیٹوں میں شامل ہو سکتی ہے۔
مجموعی طور پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی اور ڈالر کی قیمت میں کمی نے معاشی منظرنامے کو ایک نئی سمت دی ہے، جس سے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے بلکہ ملکی معیشت کے استحکام کی امیدیں بھی مضبوط ہو رہی ہیں۔


One Response