توشہ خانہ ٹو کیس : خصوصی عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی

عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

توشہ خانہ ٹو کیس : خصوصی عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی

راولپنڈی (رئیس الاخبار) : خصوصی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید اور ایک کروڑ 64 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ فیصلہ ہفتے کے روز راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سنایا گیا، جہاں عمران خان اس وقت قید ہیں۔

یہ مقدمہ مئی 2021 میں سرکاری دورۂ سعودی عرب کے دوران سعودی ولی عہد کی جانب سے عمران خان کو تحفے میں دیے گئے قیمتی بلغاری جیولری سیٹ کی انتہائی کم قیمت پر خریداری سے متعلق ہے۔ استغاثہ کے مطابق یہ جیولری سیٹ تقریباً 8 کروڑ روپے مالیت کا تھا، تاہم اسے محض 2 کروڑ 90 لاکھ روپے ادا کرکے اپنے پاس رکھا گیا، جو قانوناً امانت میں خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔

عدالت کا تفصیلی فیصلہ

فیصلہ خصوصی جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے سنایا۔ عدالتی حکم نامے کے مطابق عمران خان کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 34 (مشترکہ نیت) اور 409 (امانت میں خیانت) کے تحت 10 سال قیدِ سخت کی سزا سنائی گئی، جبکہ انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 5(2) کے تحت مزید سات سال قید کی سزا دی گئی۔ اس طرح عمران خان کو مجموعی طور پر 17 سال قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سانحہ نو مئی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت
سانحہ نو مئی لاہور حملہ کیس کا تاریخی فیصلہ

بشریٰ بی بی کو بھی انہی دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے دونوں ملزمان پر ایک کروڑ 64 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا، جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں اضافی قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔

نرمی کے پہلوؤں کا ذکر

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سناتے وقت عمران احمد خان نیازی کی عمر رسیدگی اور بشریٰ عمران خان کے خاتون ہونے کے پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا۔ انہی عوامل کی بنیاد پر عدالت نے سزا میں نرمی برتنے کا فیصلہ کیا۔ حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ فوجداری ضابطۂ کار (سی آر پی سی) کی دفعہ 382-B کے تحت ملزمان کو حراست میں گزارا گیا عرصہ سزا میں شمار کیا جائے گا۔

مقدمے کا پس منظر

توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر گزشتہ برس دسمبر میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ رواں برس اکتوبر میں دونوں نے عدالت میں پیش ہو کر الزامات کی تردید کی اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ مقدمہ من گھڑت اور سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے، جس کا مقصد عمران خان کو سیاست سے نااہل کرنا ہے۔

دیگر مقدمات کی صورتحال

واضح رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور وہ 190 ملین پاؤنڈ بدعنوانی کیس میں 14 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 9 مئی 2023 کے احتجاج سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات بھی ان کے خلاف زیرِ سماعت ہیں۔

بشریٰ بی بی بھی 190 ملین پاؤنڈ بدعنوانی کیس میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ توشہ خانہ ٹو کیس کے فیصلے کے بعد دونوں کے خلاف قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

سیاسی ردعمل متوقع

عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا کے فیصلے کو کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]