چین میں تبادلہ پروگرام سے اشیائے صرف کی فروخت 26 کھرب یوآن تک پہنچ گئی، یہ پروگرام صنعتی اپ گریڈنگ اور ماحول دوست تبدیلی کو بھی فروغ دے رہا ہے
بیجنگ (شِنہوا) (رئیس الاخبار) : چین میں صارفین کے لیے شروع کیے گئے تبادلہ (ٹریڈ اِن) پروگرام کے باعث گزشتہ سال اشیائے صرف کی فروخت 26 کھرب یوآن سے تجاوز کر گئی، جس سے 36 کروڑ سے زائد افراد مستفید ہوئے۔
چین کی وزارت تجارت کے مطابق 2025 کے دورانچین میں تبادلہ پروگرام کے تحت ایک کروڑ 15 لاکھ گاڑیاں، 12 کروڑ 90 لاکھ گھریلو آلات، 9 کروڑ 10 لاکھ ڈیجیٹل مصنوعات، 12 کروڑ گھریلو سجاوٹ، کچن اور باتھ روم کی اشیاء جبکہ ایک کروڑ 25 لاکھ الیکٹرک بائیکس خریدی گئیں۔

وزارت کے مطابق 2025 کے پہلے 11 ماہ میں اشیائے صرف کی ریٹیل فروخت میں سالانہ بنیاد پر 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس میں تبادلہ پروگرام کا حصہ ایک فیصد سے زائد رہا۔
حکام کے مطابق چین میں تبادلہ پروگرام صنعتی اپ گریڈنگ اور ماحول دوست تبدیلی کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ گاڑیوں کے تبادلے میں نئی توانائی والی گاڑیوں کا تناسب تقریباً 60 فیصد رہا، جبکہ نئی توانائی والی مسافر گاڑیوں کا مارکیٹ شیئر مسلسل 9 ماہ تک 50 فیصد سے زائد رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ناکارہ گاڑیوں کی ری سائیکلنگ میں سالانہ بنیاد پر 24.5 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں 96 لاکھ ٹن فولاد اور 13 لاکھ ٹن غیر آہنی دھاتیں ری سائیکل کی گئیں، جبکہ کاربن کے اخراج میں تقریباً 2 کروڑ 45 لاکھ ٹن کمی واقع ہوئی۔
چینی حکام کے مطابق صارفین کی اشیاء کے لیے ٹریڈ اِن سبسڈی پروگرام 2026 میں دوبارہ شروع کیا جائے گا، جس کے لیے 62.5 ارب یوآن کے خصوصی طویل مدتی ٹریژری بانڈ فنڈز پہلے ہی مختص کیے جا چکے ہیں۔