لاہور میں بسنت کی تقریبات کے لیے 20 سال بعد بھرپور انتظامات شروع
لاہور میں تقریباً دو دہائیوں بعد بسنت کی روایتی اور رنگا رنگ تقریبات کی بحالی کے لیے بھرپور اور منظم انداز میں تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ پنجاب کے دارالحکومت کو ایک بار پھر پتنگوں، رنگوں اور ثقافتی جوش و خروش سے سجانے کے لیے انتظامیہ متحرک ہو چکی ہے، جبکہ اس بار ماضی کی تلخ یادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سکیورٹی اور حفاظتی اقدامات کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بسنت کو ایک منظم، محفوظ اور خاندانی تہوار کی شکل میں منایا جائے گا تاکہ شہری بلا خوف و خطر اس تہذیبی روایت سے لطف اندوز ہو سکیں۔
انتظامیہ کے مطابق لاہور شہر کو تین بڑے حصوں یعنی ریڈ زون، ییلو زون اور گرین زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس زوننگ کا بنیادی مقصد سکیورٹی، نگرانی اور ریسکیو سرگرمیوں کو مؤثر بنانا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ ریڈ زون کو سب سے زیادہ حساس قرار دیا گیا ہے، جس میں اندرون شہر کے 47 مقامات شامل کیے گئے ہیں۔ یہ علاقے تاریخی اہمیت کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ آبادی کے لحاظ سے بھی گنجان ہیں، اس لیے یہاں خصوصی نگرانی اور اضافی نفری تعینات کی جائے گی۔
ییلو زون میں اندرون شہر سے 10 کلومیٹر کے دائرے میں واقع 32 مقامات کو شامل کیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں بھی بسنت کی تقریبات متوقع ہیں، تاہم یہاں سکیورٹی کے انتظامات ریڈ زون کے مقابلے میں نسبتاً کم مگر مؤثر ہوں گے۔ گرین زون میں شہر کے دیگر حصے شامل ہوں گے جہاں عام شہری محدود پیمانے پر پتنگ بازی کر سکیں گے، تاہم تمام زونز میں واضح قواعد و ضوابط نافذ کیے جائیں گے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریڈ اور ییلو زون میں پولیس، ریسکیو 1122 اور تکنیکی عملے کے خصوصی کیمپس قائم کیے جائیں گے۔ ان کیمپس میں پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ وہ مکینکس بھی موجود ہوں گے جو پتنگوں کے دوران استعمال ہونے والے انٹینا اور دیگر تکنیکی آلات کی نگرانی کریں گے۔ اس کے علاوہ ریسکیو اہلکار کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر وقت الرٹ رہیں گے۔ سی سی ٹی وی کیمروں، ڈرونز اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی نگرانی کا نظام مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
بسنت کی تقریبات میں ایک منفرد اور اہم پہلو سرکاری سکولوں کی چھتوں کا استعمال ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ مخصوص سرکاری سکولوں کی محفوظ اور مضبوط چھتیں بسنت کے دنوں میں کرائے پر دی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد ایک طرف تو شہریوں کو محفوظ مقامات فراہم کرنا ہے، جبکہ دوسری جانب سکولوں کے طلباء کو بھی اس ثقافتی تہوار میں شریک ہونے کا موقع دینا ہے۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی (DEA) نے اس حوالے سے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ پکی لینٹر والی چھتوں کا ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے، جبکہ تمام زونل ہیڈز کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ دو روز کے اندر اندر کنکریٹ سے بنی محفوظ چھتوں کا مکمل ریکارڈ فراہم کریں۔ ان چھتوں کی فزیکل انسپکشن بھی کی جائے گی تاکہ کسی بھی قسم کے حفاظتی خدشات کو پہلے ہی دور کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق سکولوں کی چھتوں کو کرائے پر دینے سے حاصل ہونے والی آمدن کو تعلیمی سرگرمیوں اور سکولوں کی بہتری پر خرچ کیا جائے گا۔ اس اقدام کو والدین اور اساتذہ کی جانب سے بھی مثبت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے طلباء نہ صرف محفوظ ماحول میں بسنت منا سکیں گے بلکہ اپنی ثقافت سے جڑے رہنے کا موقع بھی حاصل کریں گے۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ بسنت کے دوران دھاتی ڈور، کیمیکل ڈور یا کسی بھی خطرناک مواد کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کو خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں تاکہ وہ فوری طور پر قانون نافذ کر سکیں۔ اس کے علاوہ شہریوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے مہم بھی چلائی جائے گی تاکہ لوگ حفاظتی اصولوں پر عمل کریں۔
لاہور کے شہریوں میں بسنت کی واپسی پر خوشی اور جوش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بزرگ شہریوں کا کہنا ہے کہ بسنت لاہور کی پہچان تھی، جسے دوبارہ دیکھنا ایک خواب کی تعبیر کے مترادف ہے۔ نوجوان نسل بھی اس تہوار کو محفوظ انداز میں منانے کے لیے پرجوش دکھائی دیتی ہے، جبکہ کاروباری طبقہ اس موقع کو معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اہم قرار دے رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بسنت کو اس بار مؤثر منصوبہ بندی اور سخت نگرانی کے ساتھ کامیابی سے منعقد کر لیا گیا تو یہ مستقبل میں دیگر ثقافتی میلوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف لاہور کی ثقافتی شناخت بحال ہوگی بلکہ سیاحت اور مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔
مجموعی طور پر لاہور میں 20 سال بعد بسنت کی بحالی ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔ سخت سکیورٹی انتظامات، واضح زوننگ، سرکاری اداروں کی شمولیت اور عوامی تعاون کے ذریعے اس تہوار کو محفوظ اور خوشگوار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ یہ منصوبہ کس حد تک کامیاب ہوتا ہے، تاہم ابتدائی تیاریاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ اس بار بسنت کو ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے ایک نئی اور مثبت روایت کے طور پر پیش کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔

