امریکا کے حملے کی صورت میں اسرائیل اور امریکی اڈے نشانہ بنیں گے، ایران کی امریکا کو سخت وارننگ، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز پارلیمان سے خطاب
تہران : ایران نے امریکا کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس پر کسی قسم کا فوجی حملہ کیا گیا تو اسرائیل سمیت خطے میں موجود امریکا کے تمام فوجی اڈے اور بحری جہاز اس کے جائز اہداف ہوں گے۔
ایران کی امریکا کو سخت وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران میں حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کر چکے ہیں اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق امریکا کی ممکنہ مداخلت کے پیش نظر اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے امریکا کو خبردار کیا کہ ایران کسی بھی غلط اندازے کا بھرپور جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’واضح کر دینا چاہتے ہیں، اگر ایران پر حملہ ہوا تو مقبوضہ فلسطینی علاقوں (اسرائیل) کے ساتھ ساتھ امریکا کے تمام فوجی اڈے اور بحری جہاز ہمارے جائز اہداف ہوں گے۔‘‘
محمد باقر قالیباف ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر بھی رہ چکے ہیں اور انہیں ایرانی عسکری و سیاسی قیادت میں اہم مقام حاصل ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی سیکیورٹی مشاورت میں شریک ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ اسرائیلی حکومت کے ترجمان اور فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ ہوئی تھی، جس کے دوران امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر فضائی حملے کیے تھے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے قطر میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے پر میزائل داغے تھے، جس سے خطے میں کشیدگی میں غیرمعمولی اضافہ ہوا تھا۔
ایران میں مظاہرے، ہلاکتوں میں اضافہ
28 دسمبر سے ایران بھر میں مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف مظاہروں کا آغاز ہوا جو بعد ازاں مذہبی حکمرانی کے خاتمے کے مطالبات میں تبدیل ہو گئے۔ ایرانی حکام ان مظاہروں کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کی مداخلت کا الزام عائد کرتے ہیں۔
صورتحال پر قابو پانے کے لیے ایران میں جمعرات سے انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے، جس کے باعث ملک بھر میں معلومات کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق اب تک مظاہروں کے دوران 116 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت مظاہرین کی ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 37 اہلکار بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
ایرانی سرکاری ٹی وی نے مغربی ایران کے شہروں گاچساران اور یاسوج میں ہلاک ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی کوریج بھی نشر کی ہے۔
احتجاجی مناظر
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں تہران کے پونک علاقے میں رات کے وقت بڑی تعداد میں افراد کو پلوں اور دھاتی اشیا پر تالیاں اور ضربیں لگاتے دیکھا جا سکتا ہے، جسے حکومت مخالف احتجاج کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ویڈیوز کے مقامات کی تصدیق کر لی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کو ایک جانب شدید معاشی دباؤ اور دوسری جانب اندرونی احتجاج کا سامنا ہے، جبکہ ایران کی امریکا کو سخت وارننگ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی کشیدگی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
رئيس البرلمان الإيراني محمد باقر قاليباف ..
إسرائيل والقواعد الأمريكية بالمنطقة ستكون أهدافا لنا حال تعرضنا لهجوم . pic.twitter.com/8YJb06ux8x
— إبراهيم العجري (@IIbrahim1981) January 11, 2026
One Response