گل پلازہ کراچی میں ہولناک آتشزدگی، فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق، 20 زخمی، عمارت منہدم، 80 سے 100 افراد اب بھی عمارت کے اندر موجود
کراچی: کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں رات گئے لگنے والی خوفناک آگ نے تباہی مچا دی۔ آتشزدگی کے نتیجے میں عمارت کے دو حصے مکمل طور پر زمین بوس ہو گئے، جبکہ باقی حصے کے بھی کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ واقعے میں ایک فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق گل پلازہ کراچی میں آگ لگنے اور عمارت کے منہدم ہونے کے باعث شدید جانی نقصان ہوا۔ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جنہیں فوری طور پر سول اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ جاں بحق افراد کی شناخت آصف، فراز اور عامر کے ناموں سے ہوئی ہے۔
چیف فائر آفیسر کے مطابق گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر قائم تمام دکانیں اور گودام مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر آگ کو تیسرے درجے کی قرار دیتے ہوئے شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کر لیے گئے ہیں، جبکہ پھنسے ہوئے افراد کو اسنارکل کی مدد سے نکالا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آگ تیسری منزل تک پھیل چکی ہے، جبکہ گل پلازہ میں بیسمنٹ مارکیٹ بھی موجود ہے۔ آتشزدگی کے باعث عمارت خستہ حال ہو چکی ہے اور کسی بھی وقت مزید منہدم ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ صدر گل پلازہ کراچی تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق 80 سے 100 افراد اب بھی عمارت کے اندر موجود ہو سکتے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحسیب خان نے بتایا کہ آگ کی اطلاع ملتے ہی فائر اینڈ ریسکیو ٹیمیں، ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ ٹرک فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کیے گئے۔ چیف آفیسر ہمایوں خان کے مطابق اب تک آگ پر 40 فیصد قابو پا لیا گیا ہے تاہم آگ بار بار بھڑک اٹھتی ہے۔
آگ رات 10 بج کر 15 منٹ پر لگی، تاہم شدید گرمی اور عمارت کی کمزوری کے باعث فائر فائٹرز تاحال عمارت کے اندر داخل نہیں ہو سکے۔ عمارت کے ستون اور دیگر حصے ٹوٹ کر گرنا شروع ہو چکے ہیں۔
واٹر کارپوریشن کے ترجمان کے مطابق فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کی درخواست پر نیپا اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ سی ای او احمد علی صدیقی کی ہدایت پر واٹر ٹینکرز فوری طور پر گل پلازہ کراچی روانہ کر دیے گئے، جبکہ ہائیڈرنٹس سیل کا عملہ مسلسل رابطے میں ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری ریسکیو اقدامات، متبادل ٹریفک روٹس اور آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات کی ہدایت کی۔ انہوں نے عمارت کو مکمل طور پر محفوظ بنانے اور فائر بریگیڈ کی رسائی یقینی بنانے کا بھی حکم دیا۔
ڈی جی رینجرز سندھ کی ہدایت پر سندھ رینجرز کے جوان بھی امدادی کارروائیوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے گل پلازہ کراچی کا دورہ کیا، متاثرہ تاجروں سے ملاقات کی اور نقصانات و بحالی اقدامات پر ہدایات جاری کیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ اور اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے لیے ہر ممکن امداد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
Fire still not extinguished even after 14 hours. Hundreds of people were inside. Karachi ka phool ti yeh market. No helicopters to save people? #GulPlaza #karachi @murtazawahab1 pic.twitter.com/wlOFNKdiOV
— Sharjeel Shoaib (@shaj71) January 18, 2026
One Response