انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے کیا ہے؟ سائنس دانوں نے راز فاش کر دیا

انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے چھپی ایک نئی دنیا؛ ماہرین نے جدید نقشہ سازی سے حقائق دنیا کے سامنے رکھ دیے

برفانی براعظم انٹارکٹیکا ہمیشہ سے انسانی تجسس کا مرکز رہا ہے۔ صدیوں سے یہ سوال محققین کو پریشان کیے ہوئے تھا کہ آخر انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے کیا موجود ہے؟ حال ہی میں سائنس دانوں نے جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے اس برفانی تہہ کے نیچے چھپے ایسے جغرافیائی اسرار سے پردہ اٹھایا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

برف کے نیچے چھپی زمین کا انکشاف

انٹارکٹیکا کا بیشتر حصہ میلوں موٹی برف کی چادر سے ڈھکا ہوا ہے، جس کی وجہ سے زمین کی اصل ساخت کو دیکھنا ناممکن تھا۔ لیکن اب ماہرین نے سیٹلائیٹ ڈیٹا اور گلیشیئرز کے سرکنے کی طبیعیات (Physics) کا استعمال کرتے ہوئے یہ معلوم کر لیا ہے کہ انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے صرف پتھر نہیں بلکہ ایک مکمل اور پیچیدہ جغرافیہ موجود ہے۔

ہزاروں چوٹیاں اور گہری وادیاں

تحقیق کے حیران کن نتائج بتاتے ہیں کہ انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے ہزاروں اونچی چوٹیاں اور گہری وادیاں دفن ہیں۔ یہ پہاڑی سلسلے اتنے وسیع ہیں کہ ان کا موازنہ دنیا کے بڑے پہاڑی سلسلوں سے کیا جا سکتا ہے۔ ان معلومات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے کا منظر نامہ کسی دوسرے سیارے کی طرح پر اسرار اور مسحور کن ہے۔

جدید نقشہ سازی کی تکنیک

سائنس دانوں کے لیے یہ کام اتنا آسان نہیں تھا۔ برف کی دبیز تہوں کو پار کر کے دیکھنا ایک چیلنج تھا۔ تاہم، نقشہ سازی کی انتہائی اعلیٰ تکنیک نے یہ ممکن بنایا کہ ہم جان سکیں کہ انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے گہری تنگ گھاٹیاں اور بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی وادیاں کس طرح ترتیب دی گئی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی نے انٹارکٹیکا کے پوشیدہ نقشے کو پہلی بار دنیا کے سامنے واضح کیا ہے۔

گلیشیئرز کی حرکت اور جغرافیائی اہمیت

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے زمین کی ساخت کیسی ہے۔ اس سے نہ صرف ہمیں زمین کی تاریخ سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ یہ بھی پتہ چلے گا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں برف پگھلنے کا عمل ان پہاڑوں اور وادیوں پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے۔ انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے چھپے یہ پہاڑی سلسلے گلیشیئرز کی حرکت کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔

کیا یہاں زندگی کے آثار ممکن ہیں؟

اگرچہ موجودہ تحقیق جغرافیائی خدوخال پر مرکوز ہے، لیکن انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے موجود گہری وادیوں نے حیاتیاتی ماہرین کی دلچسپی بھی بڑھا دی ہے۔ ماہرین اب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے قدیم جھیلوں میں زندگی کی کوئی شکل موجود ہو سکتی ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو مستقبل کی تحقیقات کا رخ متعین کرے گا۔

چترال اور جنوبی وزیرستان برفباری کا نیا سلسلہ؛ بالائی علاقوں میں نظامِ زندگی درہم برہم

مختصر یہ کہ انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے دریافت ہونے والے یہ پہاڑ، وادیاں اور گھاٹیاں انسانی علم میں ایک عظیم الشان اضافہ ہیں۔ اب جب کہ ہم جانتے ہیں کہ انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے کیا چھپا ہے، سائنس دان اس براعظم کے ماحولیاتی کردار کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہو گئے ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]