چترال اور جنوبی وزیرستان برفباری؛ شاہراہیں بند، لواری ٹنل پر برف ہٹانے کا کام جاری
خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع میں سردی کی لہر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں چترال اور جنوبی وزیرستان برفباری نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ پہاڑوں پر برف کی سفید چادر بچھ جانے سے جہاں نظارے دلکش ہو گئے ہیں، وہیں مقامی آبادی کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

جنوبی وزیرستان میں شدید برفباری اور بند راستے
جنوبی وزیرستان اپر کے مختلف علاقوں بشمول بدر، کانیگرم، مکین، شوال اور شکتوئی میں چترال اور جنوبی وزیرستان برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ ان علاقوں میں برف باری کے باعث رابطہ سڑکیں بلاک ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں تک محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ شدید سردی اور اشیائے خوردونوش کی ترسیل میں دشواری نے عوامی مشکلات کو دوچند کر دیا ہے۔

چترال کی وادیوں میں دوسرے روز بھی برفباری
دوسری جانب، ضلع چترال میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ دوسرے روز میں داخل ہو گیا ہے۔ کالاش ویلیز، یارخون، گرم چشمہ اور مڈک لشٹ جیسے علاقوں میں چترال اور جنوبی وزیرستان برفباری کے نتیجے میں پہاڑوں پر برف کی موٹی تہہ جم چکی ہے۔ لواری ٹنل کے مقام پر بھی برفباری کا سلسلہ جاری ہے، تاہم انتظامیہ متحرک ہے۔
انتظامیہ کے اقدامات اور شاہراہوں کی صورتحال
ضلعی انتظامیہ کے مطابق، لواری ٹنل روڈ پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے برف ہٹانے والی مشینری مسلسل کام کر رہی ہے۔ چترال اور جنوبی وزیرستان برفباری کے باوجود اہم شاہراہوں کو کھلا رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مسافروں کو دشواری نہ ہو۔ کسٹم اور پولیس حکام نے سیاحوں اور مقامی لوگوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ چترال اور جنوبی وزیرستان برفباری کا یہ سلسلہ آئندہ چوبیس گھنٹوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ بالائی علاقوں کے رہائشیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ شدید سردی سے بچنے کے لیے گرم لبادے استعمال کریں اور گیس و بجلی کے آلات کے استعمال میں احتیاط برتیں تاکہ کسی بھی حادثے سے بچا جا سکے۔
دیر میں بارش اور برفباری کا آغاز: سیاحوں کا رخ اور محکمہ موسمیات کا الرٹ
ماہرین کا کہنا ہے کہ چترال اور جنوبی وزیرستان برفباری سے زیرِ زمین پانی کی سطح میں بہتری آئے گی، لیکن فوری طور پر سڑکوں کی بحالی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ دور افتادہ وادیوں میں پھنسے ہوئے لوگوں تک فوری امداد پہنچائی جائے۔
One Response