خیبر پختونخوا اور پنجاب میں موسم سرما کی پہلی دستک: دیر میں بارش اور برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ
پاکستان کے بالائی علاقوں میں مغربی سسٹم کے داخل ہوتے ہی موسم کی صورتحال تبدیل ہو گئی ہے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا اور دیر لوئر کے شہری علاقوں میں دیر میں بارش اور برفباری کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس نے وادی کا نقشہ ہی بدل دیا ہے۔
بالائی علاقوں میں برفباری کا نظارہ

وادی کمراٹ، جہاز بانڈہ، باڈگوائی، لواری ٹنل اور شاہی جیسے مقامات پر سفید چادر بچھ گئی ہے۔ دیر میں بارش اور برفباری کے باعث جہاں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، وہیں مقامی لوگوں اور سیاحوں کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکوں نے مئی اور جون کی گرمی کی یادیں بھلا دی ہیں۔
سیاحوں کا جوش و خروش

جیسے ہی دیر میں بارش اور برفباری کی خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، ملک بھر سے سیاحوں نے ان خوبصورت مقامات کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہوٹلنگ کی صنعت میں تیزی آگئی ہے اور سیاح لواری ٹنل اور بن شاہی کے برفانی مناظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
پنجاب کے لیے موسمی پیشگوئی
صرف خیبر پختونخوا ہی نہیں بلکہ پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مری، گلیات اور راولپنڈی میں بھی 2 جنوری تک برفباری کا امکان ہے۔ دیر میں بارش اور برفباری کا یہ سلسلہ مری اور پوٹھوہار ریجن تک پھیلنے کی توقع ہے، جس سے میدانی علاقوں میں خشک سردی کا خاتمہ ہوگا۔
سموگ اور دھند میں کمی
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ دیر میں بارش اور برفباری کے بعد جب یہ سسٹم میدانی علاقوں جیسے لاہور، فیصل آباد اور گجرانوالہ پہنچے گا، تو وہاں ہلکی بارش سے سموگ اور دھند کی شدت میں نمایاں کمی آئے گی۔ یہ بارشیں فصلوں، خاص طور پر گندم کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوں گی۔
محکمہ موسمیات کی احتیاطی تدابیر
نایاب موسمی منظر: گوادر میں سمندری بگولا بننے کی وجوہات اور بارش کے نئے سلسلے کا آغاز
پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ دیر میں بارش اور برفباری کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ برفانی علاقوں میں پھسلن کے باعث گاڑی چلاتے وقت چین کا استعمال کریں اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
One Response