گوادر میں سمندری بگولا اور مغربی سسٹم کی آمد: ساحلی پٹی پر بارشوں کی پیشگوئی، ماہرین کا انتباہ
گوادر کے ساحل پر قدرت کا انوکھا کرشمہ بلوچستان کی ساحلی پٹی پر ان دنوں موسم کی ایک انوکھی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ مغربی کم دباؤ کے سسٹم کے زیرِ اثر گوادر میں سمندری بگولا نمودار ہوا، جس نے جہاں شہریوں کو حیران کر دیا وہیں ماہرینِ موسمیات کے لیے بھی تحقیق کے نئے در وا کر دیے۔ یہ نایاب موسمی مظہر جسے سائنسی زبان میں ‘واٹر اسپاؤٹ’ (Water Spout) کہا جاتا ہے، بادلوں اور سمندر کے درمیان ہوا کے ایک گھومتے ہوئے ستون کی شکل میں نظر آیا۔
واٹر اسپاؤٹ اور لینڈ اسپاؤٹ میں فرق ماہرین کے مطابق ہوا کے یہ گھومتے ہوئے ستون تشکیل کی جگہ کی بنیاد پر تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اگر یہ سمندر کی سطح پر بنیں تو انہیں واٹر اسپاؤٹ کہا جاتا ہے، اور اگر زمین پر ہوں تو لینڈ اسپاؤٹ کہلاتے ہیں۔ گوادر میں سمندری بگولا دراصل مغربی سسٹم کے باعث ہوا کے دباؤ میں پیدا ہونے والی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ یہ بگولے عام طور پر بادلوں سے نیچے آنے کے بجائے زمین یا سمندر سے اوپر کی جانب تشکیل پاتے ہیں، جو انہیں عام ٹورنیڈو سے مختلف بناتا ہے۔
بارشوں کی پیشگوئی اور مغربی سسٹم سابق ڈی جی محکمہ موسمیات سردار سرفراز کے مطابق گوادر میں سمندری بگولا بننے کی بنیادی وجہ جنوب مغربی بلوچستان میں پہنچنے والا مغربی کم دباؤ کا سسٹم ہے۔ اس سسٹم کے باعث آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران گوادر اور گرد و نواح میں ہلکی اور درمیانی بارش کا قوی امکان ہے۔ یہ بگولہ اس بات کی علامت ہے کہ فضا میں نمی کا تناسب اور درجہ حرارت اس نوعیت کے موسمی تغیرات کے لیے سازگار ہو چکا ہے۔
ماضی کے مشاہدات اور تاریخی حقائق یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان کی ساحلی پٹی پر ایسا منظر دیکھا گیا ہو۔ اس سے قبل 20 جنوری 2019 کو گھوڑا باری کے سمندر میں ایک عظیم الشان واٹر اسپاؤٹ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ تاہم، حالیہ دنوں میں گوادر میں سمندری بگولا نظر آنا موسمیاتی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اس سے قبل 2016 میں بھی بلوچستان کے قریب ماہی گیروں نے ایسے ہی مناظر کی اطلاع دی تھی، جو ظاہر کرتے ہیں کہ بحیرہ عرب میں یہ مظاہر وقفے وقفے سے رونما ہوتے رہتے ہیں۔
سائنسی حقیقت: کیا یہ پانی کا ستون ہے؟ عام تاثر کے برعکس، گوادر میں سمندری بگولا پانی سے بھرا ہوا نہیں ہوتا۔ یہ دراصل بادل سے بھری ہوئی ہوا کا ایک کالم ہوتا ہے جو تیزی سے گردش کرتا ہے۔ اس کے اندر جو پانی نظر آتا ہے، وہ دراصل بادل کی نمی کے گاڑھا ہونے (Condensation) کی وجہ سے مائع کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ مظاہر عموماً 5 سے 10 منٹ تک برقرار رہتے ہیں، لیکن بعض اوقات ان کا دورانیہ ایک گھنٹے تک بھی جا سکتا ہے۔
ملک میں مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ داخل: 23 اضلاع میں بارشوں کی پیشگوئی اور برفباری کا امکان
ماہی گیروں اور کشتیوں کے لیے خطرات ٹیکنیکل ایڈوائزر محمد معظم خان کے مطابق، اگرچہ گوادر میں سمندری بگولا مختصر وقت کے لیے بنتا ہے، لیکن یہ چھوٹی کشتیوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس بگولے میں ہوا کی رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، جو سمندری سفر کرنے والوں کے لیے جان لیوا ہو سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات نے ماہی گیروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسے مناظر سے مناسب فاصلہ رکھیں اور گہرے سمندر میں جانے سے گریز کریں۔
2 Responses