نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ترامیم پر حتمی مرحلہ، نیپرا کی عوامی سماعت کا اعلان

نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ترامیم
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وفاقی حکومت کا نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ترامیم کا حتمی فیصلہ، نیپرا کی عوامی سماعت 6 فروری کو

وفاقی حکومت نے ملک میں نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ترامیم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد بجلی کے صارفین، بالخصوص سولر سسٹم استعمال کرنے والوں میں تشویش اور بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ ان ترامیم کے حوالے سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے صارفین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے جمع کروائے گئے اعتراضات پر عوامی سماعت 6 فروری کو منعقد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سماعت کے بعد نیپرا نیٹ میٹرنگ پالیسی میں مجوزہ تبدیلیوں پر حتمی فیصلہ کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق نیپرا نے 16 دسمبر کو نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ترامیم کا مسودہ (ڈرافٹ) جاری کیا تھا، جس کے بعد عوام، ماہرینِ توانائی، صنعتکاروں اور سولر سسٹمز سے وابستہ افراد کو 30 دن کی مدت دی گئی تھی تاکہ وہ اپنی آراء اور اعتراضات جمع کرا سکیں۔ اس مقررہ مدت کے دوران نیپرا کو بڑی تعداد میں تحریری اعتراضات موصول ہوئے، جن میں زیادہ تر کا تعلق نیٹ میٹرنگ کے معاشی اثرات، صارفین پر ممکنہ اضافی بوجھ اور متبادل توانائی کے فروغ پر منفی اثرات سے تھا۔

مجوزہ ترامیم کے مطابق موجودہ نیٹ میٹرنگ سسٹم کو مرحلہ وار نیٹ بلنگ میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ نیٹ بلنگ کی صورت میں صارفین کو قومی گرڈ کو فراہم کی جانے والی اضافی بجلی کے عوض کم نرخ ادا کیے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق اگر نیٹ بلنگ کی منظوری دی جاتی ہے تو ایکسپورٹ یونٹ کی قیمت کم ہو کر 11 روپے فی یونٹ رہ جائے گی، جو اس وقت صارفین کے لیے ایک بڑا معاشی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔

ماہرینِ توانائی کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی کا بنیادی مقصد قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دینا، بجلی کی قلت پر قابو پانا اور صارفین کو سستی توانائی کی طرف راغب کرنا تھا۔ تاہم مجوزہ ترامیم کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سولر توانائی میں سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ سکتی ہے، کیونکہ کم نرخ پر بجلی خریدنے سے صارفین کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

دوسری جانب حکومتی مؤقف ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے موجودہ نظام کی وجہ سے قومی گرڈ اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو مالی نقصان کا سامنا ہے۔ حکام کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے باعث گرڈ کے انفراسٹرکچر پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور دیگر صارفین پر بالواسطہ بوجھ منتقل ہو رہا ہے، جس کا ازالہ ضروری ہے۔

نیپرا کی جانب سے منعقد کی جانے والی عوامی سماعت میں صارفین، سولر انڈسٹری سے وابستہ افراد، ماہرینِ معیشت اور بجلی کے شعبے کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اس سماعت کے دوران تمام فریقین کو اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، جس کے بعد نیپرا شفاف اور متوازن فیصلہ کرنے کی کوشش کرے گی۔ نیپرا حکام کا کہنا ہے کہ تمام فیصلے صارفین کے مفاد، توانائی کے پائیدار نظام اور قومی معیشت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

سولر صارفین اور ماہرین کی جانب سے یہ مطالبہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ اگر پالیسی میں تبدیلی ناگزیر ہے تو اسے مرحلہ وار اور نئے صارفین تک محدود رکھا جائے، جبکہ موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اچانک پالیسی تبدیلی نہ صرف عوامی اعتماد کو متاثر کرے گی بلکہ سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ جب حکومت ایک طرف متبادل توانائی کے فروغ کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف ایسی پالیسیاں کیوں متعارف کرائی جا رہی ہیں جو سولر انرجی کے پھیلاؤ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں بجلی کے نرخ پہلے ہی بلند ہیں، شمسی توانائی ایک مؤثر اور پائیدار حل ثابت ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ نیپرا کی عوامی سماعت کے بعد نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ترامیم سے متعلق حتمی فیصلہ سامنے آئے گا، جس کا اثر لاکھوں صارفین اور مستقبل کی توانائی پالیسی پر پڑے گا۔ اس فیصلے کو توانائی کے شعبے میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف موجودہ سولر صارفین بلکہ مستقبل میں اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے بھی سمت متعین کرے گا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو نیٹ میٹرنگ پالیسی میں مجوزہ ترامیم ایک حساس اور اہم معاملہ ہیں، جن پر جلد بازی کے بجائے مشاورت، شفافیت اور طویل المدتی قومی مفاد کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔ عوامی سماعت اس بات کا اہم موقع فراہم کرے گی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی آواز سنی جائے اور ایک ایسا فیصلہ کیا جائے جو توانائی کے شعبے میں توازن اور پائیداری کو یقینی بنا سکے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]