اسلام آباد میں پراپرٹی ریٹس میں 75 فیصد تک اضافہ، ایف بی آر نوٹیفکیشن جاری
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پراپرٹی سیکٹر سے متعلق ایک اہم اور دور رس اثرات رکھنے والا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی رہائشی اور کمرشل جائیدادوں کے نئے سرکاری ریٹس جاری کر دیے ہیں، جن کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کو حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور پراپرٹی سیکٹر میں شفافیت لانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس فیصلے نے رئیل اسٹیٹ سے وابستہ افراد اور سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر بھی دوڑا دی ہے۔
ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں واقع رہائشی اور کمرشل جائیدادوں کی نظرثانی شدہ ویلیوایشن جاری کی گئی ہے، جس کے تحت مختلف علاقوں میں پراپرٹی ریٹس میں 15 فیصد سے لے کر 75 فیصد تک نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ علاقے، جائیداد کی نوعیت، استعمال (رہائشی یا کمرشل) اور تعمیر شدہ یا غیر تعمیر شدہ ہونے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اب غیرمنقولہ املاک کی مارکیٹ ویلیو کا تعین انہی نئے سرکاری ریٹس کے مطابق کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پراپرٹی کی خرید و فروخت، انتقالِ ملکیت اور دیگر قانونی معاملات میں ایف بی آر کے مقرر کردہ نئے ویلیوایشن ریٹس ہی بنیاد بنیں گے۔ اس فیصلے کے بعد پراپرٹی کی سرکاری قیمت اور مارکیٹ قیمت کے درمیان فرق کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو ماضی میں ٹیکس چوری کا ایک بڑا ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق نئے ریٹس کے نفاذ کے بعد کیپیٹل گین ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس بھی انہی نظرثانی شدہ ویلیوز کی بنیاد پر وصول کیا جائے گا۔ اس اقدام سے حکومت کو ریونیو میں اضافے کی توقع ہے، کیونکہ اب پراپرٹی لین دین پر ادا کیا جانے والا ٹیکس نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ مختصر مدت میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ تو کر سکتا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں پراپرٹی مارکیٹ میں سست روی کا خدشہ بھی موجود ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پانچ سال تک پرانے رہائشی تعمیر شدہ اسٹرکچر کے لیے نئے سرکاری ریٹس 3 ہزار روپے فی مربع فٹ مقرر کیے گئے ہیں، جبکہ پانچ سال سے زائد پرانی تعمیر شدہ رہائشی جائیدادوں کے ریٹس 1500 روپے فی مربع فٹ مقرر کیے گئے ہیں۔ ان ریٹس کا اطلاق اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں موجود تعمیر شدہ مکانات اور اپارٹمنٹس پر ہوگا، تاہم علاقے کی لوکیشن اور کمرشل حیثیت کے لحاظ سے ان میں فرق بھی ہو سکتا ہے۔
رئیل اسٹیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعمیر شدہ جائیداد کے لیے عمر کی بنیاد پر ریٹس کا تعین ایک مثبت قدم ہے، کیونکہ اس سے پرانی اور نئی عمارتوں کے درمیان فرق واضح ہو جاتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق مقرر کردہ ریٹس کئی علاقوں میں زمینی حقائق سے زیادہ ہیں، جس کے باعث خریداروں اور فروخت کنندگان دونوں پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
پراپرٹی ڈیلرز اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس نے ایف بی آر کے اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل دیا ہے۔ بعض ڈیلرز کا کہنا ہے کہ سرکاری ریٹس میں اس قدر بڑا اضافہ لین دین کی لاگت میں نمایاں اضافے کا باعث بنے گا، جس سے خریدار مارکیٹ سے مزید دور ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے ہی بلند شرح سود، مہنگائی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث پراپرٹی سیکٹر دباؤ کا شکار ہے، اور نئے ٹیکس ریٹس اس دباؤ میں مزید اضافہ کریں گے۔
دوسری جانب ایف بی آر حکام کا موقف ہے کہ پراپرٹی سیکٹر طویل عرصے سے کم ٹیکس ادا کرتا آ رہا ہے اور مارکیٹ ویلیو کے مقابلے میں انتہائی کم سرکاری ریٹس کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا تھا۔ ان کے مطابق نئے ویلیوایشن ریٹس سے نہ صرف ٹیکس چوری کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ پراپرٹی مارکیٹ کو دستاویزی شکل دینے میں بھی مدد ملے گی۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کے اثرات صرف اسلام آباد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دیگر بڑے شہروں میں بھی مستقبل میں اسی طرز پر ریٹس میں نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اقدام ٹیکس اصلاحات کے لیے ضروری ہے، تاہم حکومت کو چاہیے کہ اسے مرحلہ وار نافذ کرے تاکہ مارکیٹ پر اچانک دباؤ نہ پڑے۔
عام شہریوں کا کہنا ہے کہ نئے سرکاری ریٹس کے باعث مکان خریدنا مزید مشکل ہو جائے گا، کیونکہ ٹیکس اور دیگر قانونی اخراجات میں اضافہ براہ راست خریدار پر منتقل ہوتا ہے۔ خاص طور پر متوسط طبقہ، جو پہلے ہی مہنگائی سے متاثر ہے، اس فیصلے سے مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر حکومت پراپرٹی سیکٹر میں واقعی بہتری چاہتی ہے تو صرف ریٹس بڑھانے کے بجائے ہاؤسنگ فنانس کو آسان بنانے، شرح سود میں کمی اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ بصورت دیگر، زیادہ ٹیکسز کے باعث سرمایہ کار متبادل شعبوں کا رخ کر سکتے ہیں، جس سے پراپرٹی مارکیٹ میں جمود پیدا ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر ایف بی آر کی جانب سے پراپرٹی کے نئے سرکاری ریٹس کا اجرا ایک بڑا اور فیصلہ کن قدم ہے، جو ملکی معیشت، ٹیکس نظام اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا یہ اقدام حکومتی ریونیو میں اضافے اور مارکیٹ کی شفافیت کا باعث بنتا ہے یا پراپرٹی سیکٹر کے لیے مزید چیلنجز کھڑے کرتا ہے۔


One Response