پاکستان سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 1 لاکھ 87 ہزار پر بحال

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس 1 لاکھ 87 ہزار پوائنٹس پر بحال
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 1 لاکھ 87 ہزار پوائنٹس کی سطح پر بحال

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں زبردست تیزی کا رجحان برقرار رہا۔ کاروبار کے آغاز ہی سے خریداری کا دباؤ نمایاں رہا اور اہم ترین کے ایس ای 100 انڈیکس ایک بار پھر ایک لاکھ 87 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد بحال کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ابتدائی لمحات میں ہی انڈیکس میں 700 سے زائد پوائنٹس کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس 1 لاکھ 87 ہزار 734 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتا دکھائی دیا۔

ماہرین کے مطابق حالیہ تیزی کی بنیادی وجوہات میں معاشی اشاریوں میں بہتری، حکومتی پالیسیوں پر بڑھتا ہوا اعتماد، اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مثبت پیش رفت شامل ہیں۔ خاص طور پر آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے آنے والی مثبت خبروں نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو تقویت دی ہے، جس کا براہِ راست اثر اسٹاک مارکیٹ پر پڑا ہے۔

کاروبار کے آغاز پر بینکنگ، آئل اینڈ گیس، توانائی، سیمنٹ اور آٹو موبائل سیکٹرز میں نمایاں خریداری دیکھنے میں آئی۔ بڑے سرمایہ کاروں اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے مارکیٹ میں بھرپور حصہ لیا، جس سے تیزی کے رجحان کو مزید تقویت ملی۔ مارکیٹ میں ٹریڈ ہونے والے حصص کی تعداد اور مالیت دونوں میں اضافہ دیکھا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہیں۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں روپے کی قدر میں استحکام، افراطِ زر میں بتدریج کمی، اور شرح سود میں مستقبل میں ممکنہ نرمی کی توقعات نے بھی سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنایا ہے۔ اس کے علاوہ حکومتی سطح پر کاروبار دوست اقدامات، ٹیکس اصلاحات، اور نجکاری کے عمل سے متعلق بیانات نے بھی مارکیٹ کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق 100 انڈیکس کا ایک لاکھ 87 ہزار پوائنٹس کی سطح پر برقرار رہنا تکنیکی اعتبار سے ایک مثبت اشارہ ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں مارکیٹ مزید بلند سطحیں بھی چھو سکتی ہے۔ تاہم ماہرین سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کا مشورہ بھی دے رہے ہیں اور قلیل مدتی منافع کے بجائے طویل مدتی سرمایہ کاری پر توجہ دینے کی تلقین کر رہے ہیں۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا، تاہم حالیہ تیزی اس بات کی عکاس ہے کہ مارکیٹ نے کئی منفی خبروں کو جذب کر لیا ہے اور اب استحکام کی جانب گامزن ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری میں بہتری، ترسیلاتِ زر میں اضافہ اور تجارتی خسارے میں کمی جیسے عوامل نے مجموعی معاشی منظرنامے کو بہتر بنایا ہے۔

کاروباری برادری کا کہنا ہے کہ اگر حکومت پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھتی ہے اور معاشی اصلاحات کا عمل جاری رہتا ہے تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج خطے کی دیگر مارکیٹوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہے۔ اس وقت مارکیٹ کی قیمتیں کئی شعبوں میں اب بھی پرکشش سمجھی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے نئے سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔

دوسری جانب، عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں، جغرافیائی سیاسی صورتحال اور عالمی مالیاتی پالیسیوں پر بھی سرمایہ کاروں کی گہری نظر ہے، کیونکہ یہ عوامل مقامی مارکیٹ پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود موجودہ حالات میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا مثبت رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار معیشت کے مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہیں۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ کے ایس ای 100 انڈیکس کا ایک لاکھ 87 ہزار پوائنٹس کی سطح پر بحال ہونا نہ صرف اسٹاک مارکیٹ کے لیے بلکہ مجموعی معیشت کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ اگر یہی اعتماد اور استحکام برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں مارکیٹ میں مزید بہتری دیکھنے میں آ سکتی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ثابت ہو گی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]