لیسکو نیٹ میٹرنگ نئی بلنگ پالیسی: فی یونٹ ریٹ 25.32 روپے مقرر، جنوری 2026 سے اطلاق
لیسکو نے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے نئی بلنگ پالیسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت بجلی کے ایکسپورٹ ریٹ میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جو وزارتِ توانائی کی ہدایات کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین کو اب بجلی کی قومی گرڈ کو فراہم کی جانے والی بجلی کے عوض کم معاوضہ دیا جائے گا، جس سے سولر سسٹم لگانے والے صارفین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے ایکسپورٹ ریٹ میں 66 پیسے فی یونٹ کمی کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ایکسپورٹ ریٹ فی یونٹ 25 روپے 98 پیسے سے کم ہو کر 25 روپے 32 پیسے مقرر کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ کمی بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہے، تاہم بڑے پیمانے پر بجلی ایکسپورٹ کرنے والے صارفین کے لیے یہ کمی ماہانہ اور سالانہ بنیادوں پر خاطر خواہ مالی فرق پیدا کر سکتی ہے۔
وزارتِ توانائی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے موجودہ بلنگ میکانزم میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی تھی، کیونکہ حالیہ برسوں میں سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اضافہ قومی گرڈ، مالی توازن اور بجلی کی مجموعی لاگت پر اثر انداز ہو رہا تھا، جس کے باعث بلنگ پالیسی پر نظرثانی ضروری سمجھی گئی۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ نئی بلنگ پالیسی جنوری 2026ء کے بلنگ سائیکل سے نافذ العمل ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین کو فوری طور پر کسی تبدیلی کا سامنا نہیں ہو گا، بلکہ انہیں پالیسی کے نفاذ تک اپنے مالی اور توانائی منصوبوں پر نظرثانی کا موقع دیا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو ابھی سے ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمتِ عملی ترتیب دینی چاہیے۔
نئی پالیسی کا ایک اہم اور حساس پہلو منظور شدہ ڈی جی کپیسٹی سے زائد ایکسپورٹ یونٹس پر پابندی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اب صارفین اپنی منظور شدہ ڈی جی کپیسٹی سے زیادہ بجلی قومی گرڈ کو ایکسپورٹ نہیں کر سکیں گے۔ اگر کوئی صارف اس حد سے تجاوز کرتا ہے تو اضافی ایکسپورٹ یونٹس کو ڈی جی کپیسٹی کے تناسب سے محدود کر دیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد نیٹ میٹرنگ نظام میں توازن برقرار رکھنا اور غیر ضروری دباؤ کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
لیسکو کے نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سی پی 22 کے تحت ایکسپورٹ یونٹس کی ایڈجسٹمنٹ کا عمل بدستور جاری رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت جو ایڈجسٹمنٹ میکانزم رائج ہے، وہ ختم نہیں کیا جا رہا بلکہ نئی حدود کے اندر رہتے ہوئے لاگو رہے گا۔ یہ شق ان صارفین کے لیے کسی حد تک اطمینان کا باعث بن سکتی ہے جو پہلے سے سی پی 22 کے تحت نیٹ میٹرنگ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
نئی پالیسی میں ایک اور اہم نکتہ ایکسپورٹ ایم ڈی آئی (Maximum Demand Indicator) کے درست اندراج کو لازمی قرار دینا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اگر ایم ڈی آئی کا ڈیٹا غلط یا نامکمل ہوا تو بلنگ کے عمل میں سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جن میں غلط بل، تاخیر اور تنازعات شامل ہیں۔ اسی تناظر میں لیسکو آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ نے تمام متعلقہ افسران اور عملے کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ایم ڈی آئی ڈیٹا کی درستگی کو یقینی بنائیں اور فوری طور پر نئی ہدایات پر عمل درآمد کریں۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نئی پالیسی بیک وقت دو پہلو رکھتی ہے۔ ایک جانب حکومت اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے مالی نظم و ضبط بہتر ہو گا، جبکہ دوسری جانب نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے سرمایہ کاری کی واپسی (Return on Investment) کا دورانیہ طویل ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ صارفین جنہوں نے بڑے پیمانے پر سولر سسٹمز نصب کیے ہیں اور زیادہ تر بجلی ایکسپورٹ پر انحصار کرتے ہیں، انہیں اپنی منصوبہ بندی پر دوبارہ غور کرنا پڑ سکتا ہے۔
صارفین کی جانب سے اس فیصلے پر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت کو قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے مزید مراعات دینی چاہئیں، نہ کہ ایکسپورٹ ریٹ میں کمی کر کے حوصلہ شکنی کی جائے۔ دوسری جانب بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے بے تحاشا پھیلاؤ کے باعث قومی گرڈ پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایسی اصلاحات ناگزیر تھیں۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے سب سے بہتر حکمتِ عملی یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی بجلی کی زیادہ سے زیادہ کھپت خود کریں اور ایکسپورٹ پر کم انحصار کریں۔ اس کے علاوہ بیٹری اسٹوریج سسٹمز کی طرف رجحان بھی بڑھ سکتا ہے، تاکہ اضافی بجلی کو ذخیرہ کر کے بعد میں استعمال کیا جا سکے۔
مجموعی طور پر لیسکو کی جانب سے نافذ کی جانے والی نئی نیٹ میٹرنگ بلنگ پالیسی ایک اہم پالیسی شفٹ کی عکاس ہے، جو پاکستان کے توانائی شعبے میں بدلتے ہوئے رجحانات اور چیلنجز کو ظاہر کرتی ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ یہ پالیسی قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، صارفین کے رویّوں اور قومی گرڈ کی کارکردگی پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے۔


One Response