امریکا ایران مذاکرات: مسقط میں براہِ راست بات چیت، جوہری پروگرام زیر بحث

امریکا ایران مذاکرات مسقط عمان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

امریکا ایران مذاکرات آج مسقط میں شروع، جوہری پروگرام اور علاقائی کشیدگی ایجنڈے پر

امریکا اور ایران کے درمیان ایک عرصے سے تعطل کا شکار تعلقات میں ممکنہ پیش رفت کے تناظر میں آج ایک اہم سفارتی پیش رفت متوقع ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات عمان کے دارالحکومت مسقط میں کچھ ہی دیر بعد شروع ہونے جا رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات براہِ راست ہوں گے اور اس عمل میں کسی تیسرے ملک یا بین الاقوامی تنظیم کی شمولیت شامل نہیں ہو گی، جو اس بات کی علامت ہے کہ دونوں فریق حساس معاملات پر براہِ راست بات چیت کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں پاکستان سمیت کسی بھی دوسرے ملک کو شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی ملک کو سہولت کار یا ضامن کا کردار دیا گیا ہے۔ یہ بات چیت مکمل طور پر امریکا اور ایران کے درمیان ہو رہی ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی ایک محتاط مگر اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق براہِ راست مذاکرات کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فریقین بعض پیچیدہ معاملات پر کھل کر گفتگو کے خواہاں ہیں۔

ایرانی وفد کی قیادت وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کریں گے، جو ایران کی خارجہ پالیسی اور جوہری مذاکرات میں ایک تجربہ کار سفارتکار سمجھے جاتے ہیں۔ دوسری جانب امریکا کی نمائندگی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکاف کریں گے، جنہیں حالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ سے متعلق امریکی سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں کردار حاصل رہا ہے۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان مذاکرات میں صدر ٹرمپ کے داماد اور سابق سینئر مشیر جیرڈ کشنر کی شرکت بھی متوقع ہے، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کا مرکزی محور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران کے جوہری پروگرام، اور اس سے جڑے سیکیورٹی خدشات ہوں گے۔ اس کے علاوہ مستقبل کے سفارتی لائحہ عمل، ممکنہ اعتماد سازی کے اقدامات، اور ایسے راستوں پر بھی غور کیا جا سکتا ہے جن کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ فوری کسی بڑے معاہدے کی توقع نہیں کی جا رہی، تاہم بات چیت کا آغاز خود ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں یہ تعلقات خاص طور پر کشیدہ ہو گئے تھے۔ ایران کے جوہری پروگرام، امریکا کی جانب سے عائد کردہ سخت معاشی پابندیاں، اور مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی کی بگڑتی صورتحال نے دونوں ممالک کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں ایران پر سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں، جن کا مقصد ایرانی معیشت پر دباؤ ڈال کر تہران کو اپنے جوہری اور علاقائی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کرنا تھا۔

ان پابندیوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست سفارتی رابطے تقریباً معطل ہو گئے تھے، جبکہ بیانات کی جنگ اور الزامات کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا تھا۔ اس دوران خلیج میں کشیدگی، تیل بردار جہازوں کے واقعات، اور علاقائی پراکسی تنازعات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ان حالات میں براہِ راست مذاکرات کا دوبارہ آغاز ایک غیر معمولی اور اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

حالیہ مہینوں میں خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال، اسرائیل، ایران اور امریکا کے درمیان سخت بیانات، اور عالمی طاقتوں کی جانب سے بڑھتا ہوا سفارتی دباؤ اس بات کا سبب بنا کہ پسِ پردہ رابطوں کو تیز کیا جائے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق انہی کوششوں کے نتیجے میں مسقط میں ہونے والے ان مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی، جہاں عمان ایک بار پھر ایک خاموش مگر اہم سفارتی مقام کے طور پر سامنے آیا ہے۔

مسقط کو ماضی میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطوں اور پیغامات کے تبادلے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، جس کے باعث اسے ایک قابلِ اعتماد اور نسبتاً غیر جانبدار مقام سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس بار مذاکرات کا براہِ راست ہونا انہیں مزید اہم بنا دیتا ہے اور یہ تاثر دیتا ہے کہ دونوں فریق کم از کم بات چیت کے دروازے کھلے رکھنا چاہتے ہیں۔

سفارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کے نتائج فوری طور پر سامنے نہ بھی آئیں، تب بھی یہ عمل مستقبل میں کسی بڑے سفارتی فریم ورک کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اصل چیلنج یہ ہو گا کہ آیا دونوں ممالک ایک دوسرے کے بنیادی خدشات کو سنجیدگی سے سننے اور ان پر لچک دکھانے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔

عالمی برادری کی نظریں اس وقت مسقط میں ہونے والی اس ملاقات پر جمی ہوئی ہیں، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف امریکا اور ایران کے دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھتے ہیں تو اسے خطے میں کشیدگی میں کمی کی ایک امید افزا علامت قرار دیا جا سکتا ہے۔

آخرکار، مسقط میں ہونے والے یہ مذاکرات ایک نازک مگر اہم موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ بات چیت اس بات کا تعین کر سکتی ہے کہ آیا امریکا اور ایران محاذ آرائی کے بجائے سفارت کاری کے راستے پر آگے بڑھ سکتے ہیں یا نہیں۔ آنے والے گھنٹے اور دن اس حوالے سے نہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]