مہنگے ترین اولمپک میڈلز: اٹلی ونٹر اولمپکس میں تاریخی تمغوں کی تقسیم

ونٹر اولمپکس کے مہنگے ترین اولمپک میڈلز
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

مہنگے ترین اولمپک میڈلز ونٹر اولمپکس میں کھلاڑیوں کو دیے جائیں گے

اٹلی میں جاری ونٹر اولمپکس ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں جہاں کھلاڑیوں کو مہنگے ترین اولمپک میڈلز دیے جائیں گے۔ اولمپکس میں تمغے ہمیشہ سے اعزاز اور فخر کی علامت رہے ہیں، مگر اس بار ان کی مالی قیمت بھی غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے مہنگے ترین اولمپک میڈلز کو حقیقت بنا دیا ہے۔

مہنگے ہونے کی وجہ

ان مہنگے ترین اولمپک میڈلز کی وجہ صرف ان میں استعمال ہونے والی دھاتوں کا وزن نہیں بلکہ عالمی مارکیٹ میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے جس کے باعث ان تمغوں کی مجموعی مالیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جولائی 2024 میں ہونے والے پیرس اولمپکس کے بعد سے سونے کی قیمت میں تقریباً 107 فیصد اضافہ ہوا جبکہ چاندی کی قیمت میں 200 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار ونٹر اولمپکس میں دیے جانے والے مہنگے ترین اولمپک میڈلز پہلے سے کہیں زیادہ قیمتی ہوں گے۔

مقابلے اور تمغوں کی تعداد

ونٹر اولمپکس میں اسکیئنگ، آئس ہاکی، فگر اسکیٹنگ، کرلنگ اور دیگر کھیلوں میں دنیا بھر کے بہترین کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ ان مقابلوں کے اختتام پر مجموعی طور پر 700 سے زائد تمغے تقسیم کیے جائیں گے۔ ان میں سونے، چاندی اور کانسی کے تمغے شامل ہوں گے اور ہر ایک کو مہنگے ترین اولمپک میڈلز میں شمار کیا جا رہا ہے۔

گولڈ میڈل کی حقیقی قیمت

حالیہ قیمتوں کے مطابق ایک سونے کے تمغے کی مالیت تقریباً 2300 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ یہ رقم پیرس اولمپکس کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بار دیے جانے والے مہنگے ترین اولمپک میڈلز واقعی تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک گولڈ میڈل کا مجموعی وزن تقریباً 506 گرام ہوتا ہے، مگر اس میں خالص سونا صرف 6 گرام شامل ہوتا ہے جبکہ باقی حصہ چاندی پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے باوجود عالمی مارکیٹ میں دھاتوں کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگے ترین اولمپک میڈلز کی قدر کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

چاندی اور کانسی کے تمغے

چاندی کے تمغے کی موجودہ مالیت تقریباً 1400 ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو دو سال قبل کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح کانسی کے تمغے تانبے سے تیار کیے جاتے ہیں اور ان کا وزن تقریباً 420 گرام ہوتا ہے، مگر ان کی اصل مالی قیمت صرف چند ڈالر ہوتی ہے۔ اس کے باوجود مجموعی طور پر یہ سب مہنگے ترین اولمپک میڈلز کا حصہ ہیں کیونکہ ان کی علامتی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔

قیمتوں میں اضافے کی وجوہات

ماہرین کے مطابق سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات عالمی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی محفوظ سرمایہ کاری کی طرف بڑھتی ہوئی دلچسپی ہیں۔ مرکزی بینکوں نے بھی اپنے ذخائر میں اضافہ کیا جس کے باعث سونے کی طلب بڑھ گئی۔ اسی رجحان نے مہنگے ترین اولمپک میڈلز کی قیمت کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔

چاندی کی قیمت میں اضافہ عام سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے باعث ہوا، جس نے مارکیٹ میں طلب بڑھا دی۔ اس صورتحال نے ونٹر اولمپکس کے تمغوں کو مالی لحاظ سے بھی منفرد بنا دیا ہے اور انہیں مہنگے ترین اولمپک میڈلز میں شامل کر دیا ہے۔

کھلاڑیوں کے لیے اصل اہمیت

اگرچہ ان تمغوں کی مالی قیمت بہت زیادہ ہے، مگر کھلاڑیوں کے لیے ان کی اصل اہمیت اعزاز اور محنت کا صلہ ہے۔ اولمپک میڈل جیتنا ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے اور یہی خواب انہیں سخت محنت پر آمادہ کرتا ہے۔ اس بار کے مہنگے ترین اولمپک میڈلز نہ صرف مالی بلکہ جذباتی طور پر بھی بے حد قیمتی ہوں گے۔

مستقبل کے اولمپکس

اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 2028 میں ہونے والے سمر اولمپکس کے لیے تیار کیے جانے والے تمغے اس سے بھی زیادہ قیمتی ہو سکتے ہیں۔ اگر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ ایونٹس میں بھی مہنگے ترین اولمپک میڈلز کی روایت جاری رہے گی۔

اولمپکس 2028 کرکٹ کوالیفکیشن پر اعتراض پاکستان اور نیوزی لینڈ نے اظہارِ ناراضی کر دیا

اٹلی میں جاری ونٹر اولمپکس کھیلوں کی تاریخ میں ایک منفرد مقام حاصل کر رہے ہیں جہاں کھلاڑیوں کو مہنگے ترین اولمپک میڈلز سے نوازا جائے گا۔ یہ تمغے نہ صرف مالی لحاظ سے قیمتی ہیں بلکہ کھیلوں کی دنیا میں کامیابی اور اعزاز کی علامت بھی ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]