سونے کی قیمت میں اضافہ: عالمی مارکیٹ میں فی اونس 5,035 ڈالر، پاکستان میں فی تولہ مہنگا

سونے کی قیمت میں اضافہ پاکستان آج گولڈ ریٹ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سونے کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں، پاکستان میں فی تولہ 1,500 روپے مہنگا

یہ خبر عالمی معاشی رجحانات، سرمایہ کاروں کے رویّے اور مقامی مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ اس کے برعکس چاندی کی قیمتیں استحکام کا شکار رہیں۔ سونے کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی کے خدشات اور سرمایہ کاروں کا محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 15 ڈالر فی اونس کا اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد فی اونس سونا 5 ہزار 35 ڈالر کی بلند سطح پر پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں امریکی ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، عالمی شرحِ سود سے متعلق خدشات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مہنگائی کے دباؤ شامل ہیں۔ ایسے حالات میں سرمایہ کار عموماً سونے کو ایک محفوظ اثاثہ سمجھتے ہیں، جس کی طلب بڑھنے سے قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

عالمی مارکیٹ کے اثرات براہِ راست مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے۔ مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 1 ہزار 500 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد فی تولہ سونا 5 لاکھ 26 ہزار 262 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر جا پہنچا۔ اسی طرح فی دس گرام سونے کی قیمت بھی 1 ہزار 286 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 51 ہزار 184 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔ سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے زیورات کے خریداروں، خاص طور پر شادی بیاہ کے لیے خریداری کرنے والے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

صرافہ مارکیٹ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ روپے کی قدر میں کمی بھی ہے۔ جب مقامی کرنسی کمزور ہوتی ہے تو درآمدی اشیاء، جن میں سونا بھی شامل ہے، مہنگی ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی مارکیٹ کے نرخوں میں اضافہ بھی مقامی قیمتوں کو اوپر لے جانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاجروں کے مطابق اگر عالمی حالات میں بہتری نہ آئی تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں اس روز کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت 8 ہزار 615 روپے پر مستحکم رہی، جبکہ فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی بغیر کسی رد و بدل کے 7 ہزار 385 روپے کی سطح پر برقرار رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چاندی کی قیمتوں میں استحکام اس بات کی علامت ہے کہ فی الحال اس دھات کی طلب و رسد میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہیں آئی۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق سونے اور چاندی کی قیمتوں میں فرق اور مختلف رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد اس وقت زیادہ تر سونے پر مرکوز ہے۔ عالمی غیر یقینی صورتحال میں سونا ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، جبکہ چاندی کو زیادہ تر صنعتی استعمال کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، جس کی طلب عالمی صنعتی سرگرمیوں سے جڑی ہوتی ہے۔

عام صارفین کے لیے سونے کی قیمتوں میں اضافہ ایک تشویشناک خبر ہے، کیونکہ زیورات کی خریداری مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر متوسط طبقہ، جو شادیوں اور دیگر تقریبات کے لیے سونا خریدتا ہے، بڑھتی ہوئی قیمتوں سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ دوسری جانب سرمایہ کار طبقہ سونے کی قیمتوں میں اضافے کو ایک مثبت اشارہ سمجھ رہا ہے، کیونکہ اس سے ان کی سرمایہ کاری کی مالیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عالمی اور مقامی معاشی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ جب تک عالمی مارکیٹ میں بے یقینی، مہنگائی اور مالی دباؤ برقرار رہے گا، سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ چاندی کی قیمتیں فی الحال استحکام کے مرحلے میں دکھائی دے رہی ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]