بانی پی ٹی آئی عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی 15 فیصد رہ گئی، رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

سپریم کورٹ میں سلمان صفدر کی عمران خان کی دائیں آنکھ سے متعلق رپورٹ جمع
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی 15 فیصد رہ گئی، رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع، ملاقات کے دوران عمران خان کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا اور وہ بار بار ٹشو سے صاف کر رہے تھے

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر کی سات صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئیعمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 10 سے 15 فیصد رہ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل میں رہائشی سہولتوں کا جائزہ لینے کے بعد عدالت میں رپورٹ جمع کرائی گئی۔ اس میں بتایا گیا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی اچانک اور مکمل طور پر متاثر ہونے کے بعد علاج شروع کیا گیا، تاہم انجکشن اور دیگر طبی اقدامات کے باوجود بینائی صرف 15 فیصد تک محدود رہ گئی ہے۔

میڈیکل رپورٹس میں انکشاف کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو ریٹینا کی سنگین بیماری لاحق ہے۔ ان کے مطابق تین ماہ کے دوران بینائی کم ہونے کا مسئلہ سامنے آیا لیکن جیل حکام نے ابتدا میں اسے سنجیدہ نہیں لیا اور صرف آئی ڈراپس فراہم کیے جاتے رہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2025 تک دونوں آنکھوں کی بینائی نارمل تھی، تاہم اس کے بعد دھندلاہٹ اور نظر کی کمزوری کی شکایات بڑھتی گئیں۔ بعد ازاں دائیں آنکھ کی بینائی اچانک ختم ہوگئی، جس پر پمز اسپتال کے ماہر چشم ڈاکٹر محمد عارف کو بلایا گیا، جہاں بلڈ کلاٹ کی تشخیص ہوئی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے سلمان صفدر کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت
سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے متعلق سماعت ، سلمان صفدر کو اجازت

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے جیل میں طبی سہولتوں، باقاعدہ ٹیسٹ اور بروقت علاج نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران ان کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا اور وہ بار بار ٹشو سے صاف کر رہے تھے۔

بانی پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ پانچ ماہ سے وکلا سے ملاقات نہیں ہوئی جس سے شفاف ٹرائل کا بنیادی حق متاثر ہو رہا ہے۔ اہل خانہ سے ملاقاتوں پر بھی پابندیوں کی شکایت کی گئی، اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقات جبکہ بیٹوں سے فون پر محدود رابطے کی اجازت ہے۔

رپورٹ میں جیل کی سہولتوں سے متعلق بھی نکات اٹھائے گئے، جن میں سردیوں میں صرف ایک چھوٹا ہیٹر، گرمیوں میں حبس، مچھروں اور حشرات کی موجودگی، ریفریجریٹر کی عدم دستیابی، کول باکس کی غیر مؤثر کارکردگی اور سیل میں ٹی وی کا غیر فعال ہونا شامل ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ گرمیوں میں دو سے تین بار فوڈ پوائزننگ ہوئی، دو سال سے دانتوں کا معائنہ نہیں کرایا گیا اور عمر کے مطابق باقاعدہ بلڈ ٹیسٹ بھی نہیں ہو رہے۔

اڈیالہ جیل میں سیل بلاک میں سخت سیکیورٹی، سی سی ٹی وی نگرانی اور محدود ورزش کے اوقات فراہم کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا فوری طور پر آنکھوں کا تفصیلی معائنہ کرایا جائے اور ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے بھی معائنہ کروایا جائے۔

عدالت سے وکلا اور اہل خانہ سے ملاقاتوں کے معاملے میں مداخلت کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

مزید سفارشات میں سیل کی صفائی، کچن کے نظام میں بہتری، مچھروں کے خاتمے کے اقدامات، ریفریجریٹر کی فراہمی اور کتابوں تک رسائی شامل ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]