آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل: پاکستان کی ایران اور روس سے بڑی کوششیں

آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے منتظر پاکستانی بحری جہاز
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے لیے ایران سے رابطہ؛ سیکریٹری پیٹرولیم کی سینیٹ کمیٹی کو اہم بریفنگ

سیکریٹری پیٹرولیم نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ حکومت پاکستان آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کو بحال کرنے کے لیے ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کے پیشِ نظر تہران سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ پاکستانی تیل بردار جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرے۔

چار جہازوں کی موجودگی اور عالمی رکاوٹیں

سیکریٹری پیٹرولیم کے مطابق، اگر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی اجازت مل جاتی ہے تو پاکستان کے چار بڑے جہاز جو اس وقت کھڑے ہیں، فوری طور پر خام تیل لے کر وطن پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت جہازوں کی آمد و رفت بند ہونے کی وجہ سے عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جس کا بوجھ مقامی صارفین پر پڑ رہا ہے۔

روس سے تیل کی خریداری اور متبادل ذرائع

کمیٹی کو بتایا گیا کہ حکومت صرف ایک ذریعے پر انحصار نہیں کر رہی بلکہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں حائل رکاوٹوں کے پیشِ نظر روس سے بھی تیل خریدنے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ روسی تیل کی خریداری سے ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی، تاہم فی الحال توجہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں کو کھلوانے پر مرکوز ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ

سیکریٹری پیٹرولیم نے بریفنگ میں انکشاف کیا کہ جنگ کے باعث ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر سے بڑھ کر 187 ڈالر جبکہ پیٹرول کی قیمت 74 ڈالر سے چھلانگ لگا کر 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کی وجہ سے اب ہمیں بحیرہ احمر (Red Sea) کا لمبا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے، جس سے سفر کا دورانیہ 4 دن سے بڑھ کر 12 دن ہو گیا ہے۔

ملک میں تیل و گیس کے ذخائر کی صورتحال

کمیٹی کو بتایا گیا کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود ملک بھر میں پیٹرول کی دستیابی یقینی ہے۔ اس وقت خام تیل کے ذخائر 11 دن، ڈیزل 21 دن اور پیٹرول کے ذخائر 27 دنوں کے لیے کافی ہیں۔ تاہم، آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں تاخیر کی وجہ سے ایل پی جی اور جے پی ون کے ذخائر محدود ہوتے جا رہے ہیں، جن کی بہتری کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

قطر سے گیس سپلائی کی معطلی اور متبادل پلان

ڈی جی مائع گیس نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ قطر سے گیس کی سپلائی مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔ مارچ کے لیے طے شدہ 8 کارگوز میں سے صرف 2 پہنچ سکے ہیں، جبکہ اپریل میں بھی آدھی سپلائی غائب رہے گی۔ ایسے میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی طرح گیس کی درآمد بھی مشکل ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے آذربائیجان سے تین گنا مہنگی ایل این جی خریدنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

مٹی کا تیل مہنگا، حکومت نے مٹی کے تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ کردیا

حکام نے مارچ 2026 کے لیے ہنگامی پلان پیش کیا ہے جس کے تحت گھریلو صارفین کو ترجیح دیتے ہوئے ان کی سپلائی 399 سے بڑھا کر 420 ایم ایم سی ایف ڈی کی جائے گی، جبکہ انڈسٹری اور کیپٹو پاور پلانٹس کے لیے گیس کی فراہمی میں کٹوتی کی جائے گی۔ یہ تمام اقدامات اس وقت تک کے لیے ہیں جب تک آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل اور گیس کی آمد معمول پر نہیں آ جاتی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]