عمران خان بینائی تسلی بخش: پمز میڈیکل بورڈ کی رپورٹ جاری
Imran Khan کی صحت سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں Pakistan Institute of Medical Sciences (پمز) کے میڈیکل بورڈ نے ان کی بینائی کو تسلی بخش قرار دے دیا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج کا تیسرا مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے بعد ان کی مجموعی طبی حالت اطمینان بخش بتائی جا رہی ہے۔
پمز انتظامیہ کے مطابق عمران خان کو ان کی رضامندی سے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں آنکھوں کے علاج کے سلسلے میں تیسرا اینٹی وی ای جی ایف (Anti-VEGF) انجیکشن لگایا گیا۔ یہ انجیکشن عموماً آنکھوں کی مختلف بیماریوں، خصوصاً ریٹینا سے متعلق مسائل کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد بینائی کو بہتر بنانا اور بیماری کے پھیلاؤ کو روکنا ہوتا ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق اس مکمل طبی عمل کے دوران آپریشن تھیٹر میں تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور میڈیکل پروٹوکولز پر سختی سے عمل کیا گیا۔ ماہر ڈاکٹروں کی زیر نگرانی یہ عمل انجام دیا گیا تاکہ مریض کو کسی بھی قسم کے خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس طرح کے انجیکشن ایک خاص طریقہ کار کے تحت دیے جاتے ہیں اور ان کے لیے مکمل جراثیم سے پاک ماحول اور پیشہ ورانہ مہارت ضروری ہوتی ہے۔
معائنے کے بعد پمز کے میڈیکل بورڈ نے عمران خان کی بینائی کو تسلی بخش قرار دیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ علاج کے مراحل مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انجیکشن لگانے کے بعد عمران خان کو کچھ دیر زیر نگرانی رکھا گیا اور تمام طبی معائنے مکمل ہونے کے بعد انہیں ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی عمران خان کو 24 فروری کو اڈیالہ جیل سے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کی آنکھوں کا تفصیلی معائنہ کیا گیا اور انہیں اینٹی وی ای جی ایف انجیکشن کی دوسری خوراک دی گئی تھی۔ اس وقت بھی ان کی صحت کا مکمل جائزہ لینے کے لیے مختلف طبی ٹیسٹ کیے گئے تھے۔
پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے مطابق اس سے قبل دی جانے والی ڈوز سے پہلے عمران خان کا مکمل کارڈیالوجیکل معائنہ بھی کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ماہر امراضِ قلب نے ان کا ایکوکارڈیوگرافی (Echocardiography) اور ای سی جی (ECG) ٹیسٹ کیا، جن کے نتائج نارمل آئے تھے۔ یہ ٹیسٹ اس لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مریض کسی بڑے طبی عمل کے لیے مکمل طور پر موزوں ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق عمران خان کے وائٹل سائنز، یعنی بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن اور دیگر بنیادی طبی اشاریے، علاج کے دوران اور بعد میں مستحکم رہے۔ کنسلٹنٹ فزیشن نے بھی انہیں طبی طور پر مستحکم قرار دیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی مجموعی صحت میں کوئی تشویشناک پہلو سامنے نہیں آیا۔
طبی ماہرین کے مطابق آنکھوں کے علاج میں اس نوعیت کے انجیکشن مرحلہ وار دیے جاتے ہیں اور ہر مرحلے کے بعد مریض کی حالت کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔ اگر مریض کی حالت تسلی بخش ہو تو علاج کو اسی تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جاتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں پمز کے میڈیکل بورڈ کی جانب سے عمران خان کی بینائی کو تسلی بخش قرار دینا ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اس سے نہ صرف ان کے علاج کے کامیاب ہونے کی امید بڑھتی ہے بلکہ ان کے حامیوں اور عوام کے لیے بھی اطمینان کا باعث ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو عمران خان کا علاج طبی ماہرین کی نگرانی میں مکمل احتیاط کے ساتھ جاری ہے اور اب تک کے تمام مراحل کامیابی سے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں بھی ان کی صحت کا باقاعدہ معائنہ جاری رکھا جائے گا تاکہ ان کی بینائی اور مجموعی طبی حالت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

