تاریخی پیش رفت: آرٹیمس 2 مشن کے خلا باز زمین کا مدار چھوڑ کر چاند کی منزل کی جانب گامزن
انسانی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہونے جا رہا ہے کیونکہ نصف صدی سے زائد عرصے بعد انسان ایک بار پھر زمین کے محفوظ مدار سے نکل کر گہرے خلا کے سفر پر روانہ ہو چکا ہے۔ ناسا کا آرٹیمس 2 مشن اس وقت کامیابی سے اپنی منزل کی جانب بڑھ رہا ہے، اور خلا بازوں نے اپنے اسپیس کرافٹ کا رخ باقاعدہ طور پر چاند کی جانب کر دیا ہے۔
زمین کے مدار سے باہر کا تاریخی سفر
یہ 1972 کے بعد پہلا موقع ہے کہ کوئی انسان زمین کے نچلے مدار (Low Earth Orbit) سے باہر نکل کر بالائی خلا میں سفر کر رہا ہے۔ آرٹیمس 2 مشن کے لیے استعمال ہونے والا ‘اورین اسپیس کرافٹ’ چار خلا بازوں کو لے کر چاند کے مدار کی طرف بڑھ رہا ہے۔ زمین کی کشش ثقل سے باہر نکلنے کے بعد اب خلا بازوں کی نظریں چاند پر جمی ہیں، جہاں پہنچنے میں انہیں تقریباً تین دن کا عرصہ لگے گا۔
مشن کے شرکاء اور انفرادیت
آرٹیمس 2 مشن کئی لحاظ سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اس مشن میں پہلی بار ایک خاتون (کرسٹینا کوچ)، ایک سیاہ فام شخص (وکٹر گلوور) اور ایک غیر امریکی یعنی کینیڈین خلا باز (جرمی ہینسن) کو شامل کیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ مشن کمانڈر ریڈ وائزمین بھی موجود ہیں۔ یہ چاروں خلا باز 5 دہائیوں بعد چاند کے مدار تک پہنچنے والے پہلے انسان بننے کا اعزاز حاصل کریں گے۔
مشن کے دوران پیش آنے والے چیلنجز
خلا کا سفر کبھی بھی خطرات سے خالی نہیں ہوتا۔ آرٹیمس 2 مشن کے آغاز میں ہی خلا بازوں کو ایک عجیب و غریب مسئلے کا سامنا کرنا پڑا جب اسپیس کرافٹ کا ٹوائلٹ خراب ہو گیا، تاہم زمین پر موجود انجینئرز کی مدد سے خلا بازوں نے اسے کامیابی سے ٹھیک کر لیا ہے۔ کینیڈین خلا باز جرمی ہینسن نے ایک ویڈیو کال میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم سب چاند کی جانب سفر کرتے ہوئے بہت پرجوش ہیں، یہ مشن ثابت کرتا ہے کہ انسانی عزم کیا کچھ کر سکتا ہے۔”
چاند کی کشش ثقل کا استعمال (Sling-Shot Effect)
آرٹیمس 2 مشن کے خلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے، بلکہ وہ چاند کی کشش ثقل کو ایک ‘غلیل’ (Slingshot) کی طرح استعمال کریں گے۔ اس تکنیک کے ذریعے وہ چاند کے گرد چکر لگا کر واپس زمین کی جانب مڑیں گے۔ یہ 10 روزہ مشن اورین اسپیس کرافٹ کی لائف سپورٹ سسٹمز اور خلا بازوں کی برداشت کا امتحان لے گا، تاکہ مستقبل میں انسانوں کو چاند پر اتارنے کی راہ ہموار ہو سکے۔
مستقبل کے منصوبے اور آرٹیمس 3
ناسا کے مطابق آرٹیمس 2 مشن کی کامیابی انتہائی ضروری ہے کیونکہ اسی کی بنیاد پر 2028 میں ‘آرٹیمس 3’ مشن روانہ کیا جائے گا۔ اس مشن میں خلا باز نہ صرف چاند کے گرد چکر لگائیں گے بلکہ اس کی سطح پر قدم بھی رکھیں گے۔ یاد رہے کہ نومبر 2022 میں ‘آرٹیمس 1’ مشن بغیر کسی انسان کے چاند کا چکر لگا کر کامیابی سے واپس آ چکا ہے۔
ایک نیا عالمی ریکارڈ
اگر آرٹیمس 2 مشن اپنی تمام ترجیحات مکمل کرنے میں کامیاب رہا تو یہ خلا باز 2 لاکھ 50 ہزار میل سے زیادہ کا خلائی سفر کرنے کا ایک نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کریں گے۔ یکم اپریل کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ ہونے والا یہ مشن پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آرٹیمس 2 مشن کی واپسی زمین کے سمندر میں پیرا شوٹ کے ذریعے ہوگی، جہاں بحریہ کی ٹیمیں ان کا استقبال کریں گی۔
104 اسکائی ڈائیورز ورلڈ ریکارڈ: فلوریڈا میں 20 ممالک کے ایتھلیٹس نے نئی تاریخ رقم کر دی
خلاصہ یہ کہ آرٹیمس 2 مشن محض ایک خلائی سفر نہیں بلکہ انسان کے دوبارہ ستاروں پر کمند ڈالنے کے خواب کی تعبیر ہے۔ اس مشن کی کامیابی مریخ تک پہنچنے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔